اقوامِ متحدہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ شامی گولان کی پہاڑیوں میں غیرقانونی بستیوں کی توسیع کے منصوبے فوری طور پر روک دے۔ دوسری جانب شام نے اسرائیل سے 1974 کی سرحدوں تک واپسی کے لیے نئے سکیورٹی معاہدے کی خواہش ظاہر کی ہے، جس سے خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہونے کے امکانات ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ شامی گولان کی پہاڑیوں میں اپنی بستیوں کی توسیع کے منصوبوں کو فوری طور پر روک دے۔ عالمی ادارے کے ترجمان اسٹیفان دوجارک نے منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ گولان میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے منصوبے بند ہونے چاہییں۔
یہ بھی پڑھیے امریکا نے اسرائیل کے لیے شام میں القاعدہ اور داعش کے ساتھ کام کیا، امریکی ادارے کے سابق سربراہ کا انکشاف
اسرائیلی میڈیا کے مطابق 16 اپریل کو اسرائیل نے پانچ سالہ منصوبے کی منظوری دی، جس کے تحت 33 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی لاگت سے مقبوضہ گولان میں غیرقانونی بستیوں کو فروغ دیا جائے گا۔ 2026 سے 2030 تک جاری رہنے والے اس منصوبے کے تحت تقریباً ایک ارب شیکل مختص کیے گئے ہیں، جن کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور اس علاقے میں اسرائیلی آبادی میں اضافہ کرنا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق اس اقدام کے ذریعے ’کاتزرین‘ نامی بستی کو گولان کا پہلا شہر بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے، جیسا کہ کابینہ کے وزیر زیف ایلکن نے بتایا۔
بین الاقوامی قانون کے تحت گولان کی پہاڑیاں شام کا علاقہ تسلیم کی جاتی ہیں، جن پر اسرائیل نے 1967 سے قبضہ کر رکھا ہے، اور وہاں بستیوں کی تعمیر و توسیع کو غیرقانونی قرار دیا جاتا ہے۔
دوسری جانب شامی صدر احمد الشراع نے 17 اپریل کو کہا کہ دمشق ایک نئے سیکیورٹی معاہدے کا خواہاں ہے، جس کے تحت اسرائیل 1974 کی جنگ بندی لائنوں تک واپس جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام مرحلہ وار مذاکرات کا حصہ ہو سکتا ہے، جو مستقبل میں وسیع تر معاہدے کی راہ ہموار کرے گا۔
یہ بھی پڑھیے اسرائیل کی خطے میں عدم استحکام کی سازشیں ناکام، شامی صدر کا مؤقف
ترکیہ میں منعقدہ انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے دوران گفتگو کرتے ہوئے شامی صدر نے کہا کہ 1974 کا معاہدہ پانچ دہائیوں تک برقرار رہا، تاہم دسمبر 2024 میں سابق شامی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیلی خلاف ورزیوں کے باعث یہ معاہدہ کمزور پڑ گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں ایسے سیکیورٹی معاہدے کی کوشش کی جا رہی ہے جو اسرائیل کی 1974 کی سرحدوں تک واپسی کو یقینی بنائے اور دونوں فریقین کے تحفظ کے لیے نئے اصول وضع کرے۔
شامی صدر کے مطابق اگر یہ کوششیں کامیاب ہوئیں تو اس کے نتیجے میں طویل المدتی مذاکرات کا آغاز ممکن ہو سکتا ہے، جس کا مقصد مقبوضہ گولان کی حتمی حیثیت کا تعین کرنا ہوگا۔












