امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جان کو مبینہ طور پر خطرے میں ڈالنے کے الزام میں فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ یہ مقدمہ ایک انسٹاگرام پوسٹ سے متعلق ہے جو انہوں نے گزشتہ سال مختصر وقت کے لیے شیئر کی تھی۔
استغاثہ کے مطابق اس تصویر میں ساحل سمندر پر موجود سیپیوں سے ‘86 47’ کے نمبر بنے ہوئے تھے۔ امریکی بول چال میں ‘86’ کا مطلب کسی چیز یا شخص کو ہٹانا یا نکال دینا لیا جاتا ہے، جبکہ ‘47’ کو ٹرمپ کے 40ویں صدر بننے کے تناظر میں ان سے جوڑا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’اگر ہم نہ ہوتے تو آپ فرانسیسی بول رہے ہوتے‘ کنگ چارلس کا ٹرمپ پر طنز
جیمز کومی نے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس جملے یا نمبر کے سیاسی یا پرتشدد مطلب کا علم نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی بے قصور ہیں اور آزاد عدالتی نظام پر اعتماد رکھتے ہیں۔
ایف بی آئی کے موجودہ ڈائریکٹر کاش پٹیل نے کہا کہ کومی جیسے سابق اعلیٰ عہدیدار کو اپنی پوسٹ کے اثرات کا بخوبی علم ہونا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق یہ پوسٹ صدر کے خلاف مبینہ دھمکی کے زمرے میں آتی ہے۔
امریکی محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ صدر کی زندگی کو خطرے میں ڈالنا سنگین جرم ہے اور اس کیس میں دو الزامات عائد کیے گئے ہیں جن کی سزا دس سال تک قید ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا میں پاسپورٹ کا نیا ڈیزائن متعارف، ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر شامل
قانونی ماہرین نے اس مقدمے کو کمزور قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر اظہارِ رائے کی آزادی کے دائرے میں آتا ہے۔
کومی پہلے بھی ٹرمپ دور میں برطرف کیے جا چکے ہیں اور ان کے خلاف مختلف قانونی کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں۔ عدالت نے پہلے ایک کیس تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر خارج کیا تھا تاہم دوبارہ کارروائی کا امکان موجود ہے۔














