سری لنکا کی حکومت نے ملک کے کرکٹ بورڈ کا عارضی کنٹرول سنبھال لیتے ہوئے ’اسٹرکچرل ریفارمز‘ کے لیے 9 رکنی عبوری انتظامیہ بھی تشکیل دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: فضائی آپریشن متاثر، سری لنکا نے افغانستان کے خلاف مجوزہ کرکٹ سیریز ملتوی کر دی
سری لنکا کرکٹ ملک کا سب سے امیر کھیلوں کا ادارہ سمجھا جاتا ہے تاہم یہ طویل عرصے سے بدعنوانی اور انتظامی بدانتظامی کے الزامات کی زد میں رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی کرکٹ گورننگ باڈی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے 2023-24 کے دوران سیاسی مداخلت کے باعث سری لنکا کرکٹ کو 2 ماہ کے لیے معطل بھی کیا تھا۔
سری لنکا کی وزارت برائے یوتھ افیئرز اور اسپورٹس نے بدھ کو اعلان کیا کہ تمام انتظامی امور فوری طور پر وزارت کے تحت لے لیے گئے ہیں۔
وزارت نے یہ علان بھی کیا کہ سابق انویسٹمنٹ بینکر اور اپوزیشن سیاستدان ایرن وکرما رتنے کو بورڈ کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: ورلڈ کپ کے دوران بڑا تنازع، سری لنکن بیٹسمین کا بھارتی بلے بازوں پر بیٹ ٹیمپرنگ کا الزام
حکومت کی جانب سے مقرر کردہ دیگر ارکان میں سابق کپتان کمار سنگاکارا اور سابق ٹیسٹ کرکٹرز سداٹھ ویٹیمونی اور روشن مہانامہ شامل ہیں۔
وزارت کے مطابق یہ عبوری کمیٹی موجودہ مسائل کے حل اور کرکٹ کے ڈھانچے میں اصلاحات کے لیے کام کرے گی۔
دوسری جانب 4 مرتبہ سری لنکا کرکٹ کے صدر رہنے والے شمی سلوا نے منگل کے روز اپنے پورے بورڈ سمیت استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد حکومت نے یہ فیصلہ کیا۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ تنازع: پاکستان کا سری لنکن صدر کی درخواست پر بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کا فیصلہ
واضح رہے کہ سری لنکا حال ہی میں بھارت کے ساتھ مشترکہ طور پر منعقدہ ٹی 20 ورلڈ کپ سے جلد باہر ہو گیا تھا۔














