اٹلی جانے والی تارکین وطن کی کشتی تیونس کے ساحل پر الٹ گئی، 13 افراد لاپتا

ہفتہ 22 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تیونس کے ساحل کے قریب اٹلی جانے والی تارکین وطن کی ایک کشتی الٹنے کے نتیجے میں کم از کم 13 تیونسی شہری لاپتا ہوگئے، جبکہ 2 افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔

الجزیرہ اور خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تارکین وطن کی کشتی جمعرات کی صبح تیونس سے روانہ ہوئی تھی اور اٹلی کی جانب جا رہی تھی کہ سمندر میں حادثے کا شکار ہوگئی۔ تیونس آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ مصطفیٰ عبدالکبیر نے ہفتے کو بتایا کہ کشتی میں سوار کم از کم 13 افراد تاحال لاپتا ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مقامی کشتی کے عملے نے 2 افراد کو سمندر سے نکال کر بچا لیا۔ ان میں سے ایک نے امدادی کارکنوں کو بتایا کہ کشتی الٹنے کے بعد وہ کئی گھنٹوں تک سمندر میں پھنسے رہے۔ دوسرے زندہ بچ جانے والے کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔

تیونس گزشتہ کئی برس سے افریقہ سے یورپ جانے والے تارکین وطن کے لیے اہم روانگی کا مرکز رہا ہے۔ بہت سے تارکین وطن انتہائی گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی یا غیر محفوظ کشتیوں کے ذریعے بحیرہ روم عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 2 برس کے دوران تیونس سے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے افراد کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں تیونسی حکام کی جانب سے کریک ڈاؤن اور یورپی یونین کے تعاون سے سمندری نگرانی اور سرحدی کنٹرول میں سختی شامل ہے۔

تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں یورپی یونین اور تیونس کے درمیان 2023 کے معاہدے پر مسلسل تنقید کرتی رہی ہیں۔ رواں سال جولائی میں 46 انسانی حقوق کی تنظیموں، جن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ بھی شامل ہیں، نے مشترکہ بیان میں الزام عائد کیا کہ معاہدے کے تحت تیونس کو سرحدی نگرانی کے لیے فراہم کی جانے والی یورپی فنڈنگ کے نتیجے میں تارکین وطن کے خلاف سخت اور مبینہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نائیجیریا میں مسافروں سے بھری کشتی الٹ گئی، 40 سے زیادہ لاشیں برآمد

تنظیموں نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ تیونسی سکیورٹی فورسز سے متعلق ہجرت اور سرحدی نگرانی کی سرگرمیوں کے لیے فنڈنگ معطل کرے۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق 2014 سے اب تک ہزاروں افراد بحیرہ روم عبور کرکے یورپ پہنچنے کی کوشش میں جانیں گنوا چکے ہیں، جس کے باعث یہ دنیا کے خطرناک ترین تارکین وطن روٹس میں شمار ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا میں گوردوارے پر حملہ، مذہبی پیشوا سمیت 2 افراد زخمی، ملزم گرفتار

پاکستان اور ملائیشیا کا انسداد دہشتگردی و منشیات کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

میانمار میں بدھ عبادت گاہ پر فوجی فضائی حملہ، 14 افراد ہلاک، 20 زخمی

وزیراعظم کا بگھی سواری پر سخت نوٹس، آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو تحریری انتباہ

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘