میانمار کے وسطی علاقے ساگانگ میں ایک بدھ خانقاہ پر فوجی فضائی حملے کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک اور قریباً 20 زخمی ہوگئے۔
الجزیرہ اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حملہ جمعہ 21 اگست کو میانمار کے شہر منڈالے سے قریباً 75 کلومیٹر مغرب میں واقع میاونگ ٹاؤن شپ کے گاؤں سوِل لے اوہ میں کیا گیا۔
مزید پڑھیں:میانمار 3 لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کو واپس لینے کو تیار
مقامی ذرائع کے مطابق خانقاہ میں بدھ مت کے مذہبی تیوہار کے موقع پر ایک ہفتے پر مشتمل مراقبے اور مذہبی اجتماع کا اہتمام تھا، جس میں 100 سے زائد افراد شریک تھے۔
مقامی اپوزیشن سے وابستہ تنظیم کے ترجمان نے بتایا کہ ایک لڑاکا طیارے نے خانقاہ کے احاطے میں بم گرایا، جس کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہوئے، جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ قریباً 20 افراد زخمی ہوئے۔
ایک مقامی رہائشی نے بھی ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ لڑاکا طیارے نے قریباً 15 منٹ کے وقفے سے 2 بم گرائے۔ دوسرے بم سے خانقاہ کے قریب موجود ایک گھر کو نقصان پہنچا، جہاں متعدد افراد پناہ لیے ہوئے تھے۔
میانمار کی فوج نے فوری طور پر حملے اور ہلاکتوں کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم فوج ماضی میں ایسے حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہہ چکی ہے کہ اس کی کارروائیاں مسلح مزاحمت سے وابستہ اہداف کے خلاف ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیں:میانمار میں آن لائن فراڈ کے خلاف سخت قانون منظور، سنگین سائبر جرائم پر سزائے موت کی منظوری
میانمار میں فروری 2021 میں فوج کی جانب سے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے خانہ جنگی جاری ہے۔ ساگانگ خطہ فوج اور حکومت مخالف مسلح گروہوں کے درمیان شدید لڑائی کا مرکز بن چکا ہے، جہاں فوج کی جانب سے فضائی حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔














