وزیراعظم شہباز شریف نے یوم آزادی کی تقریب کے دوران اسلام آباد کے آئی جی اور چیف کمشنر کی بگھی پر سواری کا سخت نوٹس لیتے ہوئے دونوں افسران پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
سرکاری دستاویز کے مطابق 14 اگست کو اسلام آباد میں منعقدہ سرکاری تقریب میں آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر بگھی پر سوار ہوکر پہنچے تھے۔ وزیراعظم کی ناراضی کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جوائنٹ سیکریٹری ڈسپلن نے دونوں افسران کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ سرکاری عہدیداروں کی جانب سے اس نوعیت کی ذاتی نمود و نمائش عوامی خدمت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
Have you ever seen London’s Police Commissioner or any senior civil servant riding around in a royal buggy? When this is the mindset in a country deep in debt, where millions are struggling with poverty, how can we ever expect the country to progress? pic.twitter.com/YO5CBrfhAZ
— Ihtisham Ul Haq (@iihtishamm) August 15, 2026
پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ سول سرونٹس کو عاجزی، ضبط، وقار اور سادگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور آئندہ ایسے طرز عمل سے گریز کیا جائے جس سے سرکاری افسران کو خصوصی مراعات یا نمود و نمائش کا تاثر ملے۔ متعدد میڈیا ذرائع نے وزیراعظم کے نوٹس اور دونوں افسران کو تحریری انتباہ کی تصدیق کی ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب 14 اگست کی تقریب میں آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کی بگھی پر آمد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور صارفین نے سرکاری افسران کے اس انداز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ بعدازاں وزیر داخلہ محسن نقوی نے وضاحت کی تھی کہ دونوں افسران کو تقریب شروع کرنے کی ہدایت دی گئی تھی کیونکہ وہ اور مہمان خصوصی تاخیر کا شکار تھے، جبکہ بگھی اصل میں مہمان خصوصی کے لیے مختص تھی۔
یہ بھی پڑھیں:’قرضوں میں ڈوبا ملک، افسران شاہی بگھیوں میں‘ سرکاری تقریب پر عوامی و صحافتی حلقوں کی تنقید
میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کی ناراضی سے دونوں افسران کو 17 اگست کو تحریری طور پر آگاہ کیا گیا تھا، جبکہ خط میں سول سرونٹس کو سادگی برقرار رکھنے اور ایسے طرز عمل سے اجتناب کی ہدایت کی گئی۔
وزیراعظم کی جانب سے کارروائی اس امر کی واضح یاد دہانی قرار دی جا رہی ہے کہ اعلیٰ سرکاری عہدیداروں سے عوامی منصب کے شایانِ شان سادگی اور ذمہ دارانہ طرز عمل کی توقع کی جاتی ہے۔














