کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے ایک اسکول میں فائرنگ کے ہولناک واقعے کے بعد سات متاثرہ خاندانوں نے مصنوعی ذہانت کی عالمی کمپنی اوپن اے آئی کے خلاف کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت میں قانونی چارہ جوئی کا آغاز کردیا ہے۔
دعویٰ کیا گیا ہے کہ کمپنی کی حفاظتی ٹیم نے حملے سے 8 ماہ قبل ہی حملہ آور کے چیٹ جی پی ٹی اکاؤنٹ کو ایک سنگین خطرہ قرار دے دیا تھا، لیکن اس کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلع نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت پر کنٹرول کی جنگ: ایلون مسک اور سیم آلٹمین عدالت میں آمنے سامنے
فروری 2026 میں ٹمبلر رج سیکنڈری اسکول میں ہونے والی اس فائرنگ میں 5 بچوں اور ایک ٹیچنگ اسسٹنٹ سمیت کئی افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
دائر کردہ مقدمات کے مطابق اوپن اے آئی کے ماہرین نے جون 2024 میں ہی حملہ آور کے اکاؤنٹ کو ‘مسلح تشدد کے حقیقی خطرے’ کے طور پر نشان زد کرلیا تھا۔ کمپنی کے اپنے قوانین کے تحت ایسے خطرات کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دینا لازمی ہے، خصوصاً اس صورت میں جب کینیڈین پولیس پہلے ہی مذکورہ نوجوان کی نگرانی کررہی تھی۔
مقدمے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اوپن اے آئی نے خطرہ بھانپنے کے بعد پولیس کو بتانے کے بجائے صرف حملہ آور کا اکاؤنٹ معطل کیا اور مبینہ طور پر اسے ایک ای میل بھیجی جس میں نیا اکاؤنٹ بنانے کا طریقہ سمجھایا گیا۔
وکلاء کا الزام ہے کہ کمپنی نے اپنے آئی پی او اور 852 ارب ڈالر کی ممکنہ مالیت کو بچانے کے لیے ایسے پرتشدد واقعات کو عوامی سطح پر آنے سے روکا۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی چیٹ بوٹس پر اندھا اعتماد خطرناک، آپ کی گفتگو عدالت میں پیش ہو سکتی ہے، ماہرین کی تنبیہ
اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین نے گزشتہ ہفتے ٹمبلر رج کے مکینوں سے عوامی سطح پر معذرت کرتے ہوئے اسے ایک غلطی قرار دیا تھا۔ تاہم متاثرہ خاندانوں کے وکیل جے ایڈلسن نے اس معذرت کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ جان بوجھ کر کیلیفورنیا میں دائر کیا گیا ہے تاکہ سیم آلٹمین کو اپنے ہی پڑوسیوں پر مشتمل جیوری کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قانونی جنگ کے نتائج مصنوعی ذہانت کے اداروں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے مستقبل کی سمت متعین کریں گے۔














