امریکی دبدبہ

جمعرات 30 اپریل 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

رعب اور دبدبے کی سب سے بلند سطح یہ ہے کہ صاحب دبدبہ علاقے میں موجودگی نہ رکھتا ہو، مگر اس کی موجود ہوسکنے کی قدرت ہی کمزور کو محتاط رکھے۔ اس سے ایک درجہ نیچے کی سطح یہ ہے کہ کسی کی محض موجودگی ہی سب کو سیدھا رکھے۔ اس سے نچلی سطح یہ ہے کہ محض موجودگی سے بات نہ بنتی ہو بلکہ دھمکی بھی استعمال کرنی پڑتی ہو۔ اس سے بھی نچلی سطح یہ ہے کہ دھمکی بھی کارآمد نہ رہے پھینٹی لگانے کی نوبت آتی ہو۔ اور سب سے نچلی سطح یہ ہے کہ پھینٹی بھی کار آمد نہ رہے اور لوگ ڈرنا ترک کردیں۔ امریکا بہادر آج کل اسی آخری سطح پر پایا جا رہا ہے۔

جس امریکا کے محض پابندیوں کے اعلان سے ہی دنیا پابندیوں کے شکار ملک سے تجارت بند کردیا کرتی تھی، اسی امریکا کا اب یہ حال ہے کہ بحیرہ ہند میں اس کی نیوی ناکہ بندی کے اعلان کے ساتھ کھڑی ہے۔ مگر کبھی خبر آتی ہے، 34 بحری جہاز امریکی ناکہ بندی توڑ کر نکل گئے تو کبھی خبر آتی ہے، امریکی ناکہ بندی عملاً بے اثر ہے۔ اس معاملے میں سمجھنے والا ایک بے حد اہم نکتہ یہ ہے کہ بحری جہاز یا سمندری ٹینکرز بیشتر پرائیویٹ شپنگ کمپنیوں کے ہوتے ہیں۔ تو گویا صورتحال محض یہ نہیں کہ ممالک امریکی خوف سے آزاد ہو رہے ہیں، بلکہ شپنگ انڈسٹری کے سیٹھ بھی اب امریکی دبدبے میں نہیں رہے۔

دبدبہ قائم رکھنے کے لیے دیے گئے اہل دانش کے دو معروف قیمتی مشوروں کا ذکر امریکا کی موجودہ حالت کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ پہلا مشورہ یہ کہ جب کسی سے الجھو تو اس پر ہاتھ مت اٹھاؤ، ورنہ اگلا جان جائے گا کہ آپ کے گھونسے کی قوت کتنی ہے۔ اگر اسے لگا کہ اس شدت کے تو وہ دس گھونسے بھی آرام سے کھا سکتا ہے تو اس نتیجے تک پہنچتے ہی وہ مقابلے پر اتر آئے گا، اور بعید نہیں کہ مار مار کر آپ کا ہی بھرکس نکال دے۔ سیانے دوسرا مشورہ یہ دے گئے ہیں کہ بولا کم کرو۔ اس سے رعب بھی قائم رہتا ہے، اور اگلے جان بھی نہیں پاتے کہ آپ کے اندرون کیا چل رہا ہے؟

یہ کوئی پہلی بار نہیں کہ امریکا نے کسی پر ہاتھ اٹھایا ہو، وہ ہاتھ ہی نہیں پیر بھی اٹھانے کا قائل چلا آرہا ہے۔ اپنی 250 سالہ تاریخ میں اس نے چھوٹی موٹی ملا کر 200 سے زیادہ فوجی مہمات کر رکھی ہیں۔ زیادہ معروف اس کی صرف وہ جنگیں ہیں جو اس نے سپر پاور بننے کے بعد دنیا بھر میں مسلط کی ہیں۔ یوں گویا یہ ہاتھ نہ اٹھانے والے قیمتی مشورے پر یقین ہی نہ رکھتا تھا۔ اور پٹنے والوں کا حال دیکھ کر تاثر یہ بن گیا کہ یہ مشورہ ہی نری بونگی ہے۔ مشورہ بونگی نہ تھا، بلکہ سالہا سال اس کے گھونسے کی پاور دیکھ کر پٹنے والے ہی نہیں بلکہ باقی ممالک بھی محتاط ہو جایا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ ویتنام جنگ میں اس کی شکست کو اسی طرح کی شکست سمجھ لیا گیا جس طرح کی اکا دکی شکستوں کا مزہ اپنے دور عروج میں ویسٹ انڈین اور آسٹریلوی کرکٹ ٹیمیں بھی چکھ چکیں۔ یعنی وہ شکست جسے اَپ سیٹ کہا ہی نہیں مانا بھی جاتا ہے۔

امریکا کی کمبختی کا دور افغان جنگ سے شروع ہوا، اپنی طاقت کے عین عروج پر جب اس نے ہم سے کہا ’بتاؤ تم میرے ساتھ ہو یا میرے خلاف؟‘ تو یہ بالکل سامنے کی یہ بات بھول بیٹھا کہ ہم تو اسی افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف گوریلا جنگ لڑا کر اس طرح کی جنگ کے ماسٹر ہی نہیں بن چکے بلکہ یہ بھی سمجھ چکے ہیں کہ یہ کام تو ہم اکیلے بھی کرسکتے ہیں، سو امریکی دھمکی پر ہماری سوچ وہی تھی جو اس شعر میں بیان ہوئی ہے۔

ہے مہماں نوازی کا یہ تقاضا کہ آئے مہماں گلے لگا لو

مگر طبیعت یہ چاہتی ہے، گلے ملو اور گلا دبا دو

سو ہم نے 6 سال تو امریکی مہمان کو گلے لگایا، اور اس کے بعد کے 14 سال اس کا گلا دبانے میں گزار دیے۔ کوئی شک نہیں کہ ہم جان اس کی نہیں لے سکے، وہ ممکن بھی نہیں تھا۔ مگر جب یہ ہم سے گردن چھڑا کر نکلا تو اتنا لاغر ہوچکا تھا کہ یوکرین کی جنگ میں نیٹو کی مدد سے بھی روسی پیش قدمی روکنے کے لائق نہ رہا۔ افغانستان اور عراق کی ناکامی کے بعد یوکرین میں بھی اس کی ناکامی دیکھ کر دنیا کو یقین ہوگیا یہ اَپ سیٹ شکستیں نہیں ہیں۔ یعنی ایک عالم جان گیا کہ امریکی گھونسے میں اب وہ پہلی سی پاور نہیں رہی۔ سو ایرانی اس کی جنگ کی دھمکیوں سے نہیں گھبرائے۔ ٹرمپ کو اس کے جرنیل سمجھا چکے تھے کہ میاں جی نہ کرو، ہم میں اب وہ پرانی بات نہیں رہی، مگر نیتن یاہو نے ٹرمپ کے کان میں سرگوشی کی۔

’ٹینشن مت لے، جنگ لڑنی ہی نہیں، رجیم چینج آپریشن ہے، کل ملا کر 94 گھنٹے کی گیم ہے‘

مگر آہ! المیہ صرف یہ نہیں کہ رجیم چینج کے لیے درجن بھر ایرانی بھی نہ نکلے، بلکہ ایک چیز اس سے بھی آگے کی ہوگئی، جس کی اہمیت دنیا بھر کے تجزیہ کار سمجھ ہی نہ سکے۔ ہوا یہ کہ بے ریاست کرد ٹرمپ و سی آئی اے کا مال کھا گئے اور ڈکار بھی نہ لی، اور یہیں انٹری ہوجاتی ہے اس دوسرے قیمتی مشورے کی، جو یہ تھا کہ بولا کم کرو، زیادہ بولنے سے لوگ جان جاتے ہیں کہ آپ کے اندرون چل کیا رہا ہے؟ اپنے ایمان سے بتائیے یہ کردوں والی بات دنیا کو بتانے والی تھی؟ مگر ٹرمپ اور چپ رہ لے؟۔

اس جنگ کے دوران ٹرمپ کو وہ یورپین لیڈرز یاد آئے جن کا پچھلے سال اپنے دفتر میں ٹرمپ نے کلاس روم قائم کرکے تصویر دنیا بھر میں وائرل کروا دی تھی۔ ٹرمپ نے انہیں مدد کے لیے پکارا تو انہیں یقین نہ آیا کہ یہ وہی امریکا ہے جسے انہوں نے 80 سال سے یورپ میں اس امید پر اڈے دے رکھے ہیں کہ یہ ان کی حفاظت کرے گا۔ سو انہوں نے سوچا کہ جو خود کو ایران سے نہیں بچا پا رہا، وہ یورپ کو روس سے بچائے گا؟ یوں نیٹو ممالک نے کہہ دیا، ہماراتو گرل فرینڈ کو ڈنر پر لے جانے کا وقت ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ داغنے کے لیے امریکا کے پاس مزید دانے بچے نہیں، اور گھر جاتا ہے تو قوم نے رسوائی کا آڈٹ شروع کردینا ہے۔ ایسے میں نیول بلاکیڈ وہ آپشن نظر آئی کہ جنگ بھی نہ ہو اور گھر بھی نہ جانا پڑے۔

بظاہر نیتن یاہو والی اسکیم ہی لگ رہی تھی کہ حالت جنگ میں رہو تاکہ کرپشن کیس شروع نہ ہو، مگر جب چالیس چالیس بحری جہاز ناکہ بندی توڑنے لگیں تو اس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ امریکی رعب و دبدبہ زوال کی پست ترین سطح تک پہنچ چکا۔ اب پرائیویٹ شپنگ کمپنیاں بھی امریکی نیوی کو خاطر میں نہیں لاتیں۔ ہم نے کسی گزشتہ کالم میں ایران جنگ کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے سے قبل رجیم چینج کی صورت ایرانی تیل کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتا تھا، تاکہ چینی صدر شی جن پنگ کو دباؤ میں لے سکے۔ وہ دورہ مارچ کے آخر میں طے تھا، جسے 14 مئی کے لیے ری شیڈیول کیا گیا۔ 14 مئی لگ بھگ سر پر ہے، اب یا تو وہ دورہ منسوخ ہوگا، یا پھروہ صدر شی جن پنگ کے پیر پکڑنے کے لیے ہوگا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی: تجارتی نقل و حمل میں رکاوٹوں سے غریب ممالک زیادہ متاثر، اقوام متحدہ

تھراپی کے ساتھ ساتھ ورزش اور اچھے دوستوں کی صحبت ذہنی سکون کے لیے ناگزیر ہے، زارا نور عباس

آن لائن ملازمت کے متلاشی ہوشیار: جعلی کلاؤڈ فلیئر کے ذریعے  بڑا فراڈ بے نقاب

اسلام آباد کے پیٹرول پمپس پر شہریوں کا جم غفیر، انتظامیہ کی اہم ہدایت

پیٹرول پرائس میں اضافہ، پی ٹی آئی میں لڑائیاں، ایران نے امریکا کو حتمی تجاویز بھیج دیں

ویڈیو

پیٹرول پرائس میں اضافہ، پی ٹی آئی میں لڑائیاں، ایران نے امریکا کو حتمی تجاویز بھیج دیں

کیا امریکا اور ایران میں امن معاہدہ ہوگا؟ جانیے ارکانِ پارلیمنٹ کی رائے

ماں کی دعا، بیٹا کرکٹ کمنٹیٹر بن گیا

کالم / تجزیہ

چندی گڑھ میں لاہوری

جعفر پناہی کی آف سائیڈ کھلاڑی

جدید ہنگور کلاس آبدوزوں کا منصوبہ، پاک بحریہ کا ایک سنگ میل