دریاؤں میں بڑھتی آلودگی  سے مچھلیوں کی نسل کشی اور ماہی گیروں کے مشکلات

جمعرات 30 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جھنگ کے علاقے ہیڈ تریموں پر دریائے جہلم اور چناب کے پانی پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق پانی میں موجود خوردبینی آبی حیات میں واضح عدم توازن پایا گیا، جہاں تقریباً 98 فیصد فائیٹوپلانکٹن، جبکہ زوپلانکٹن صرف 2 فیصد کے قریب ریکارڈ کیے گئے۔ ماہرین کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے اور آلودگی کے باعث بعض مہینوں میں آبی حیات کی تنوع میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جو پانی کے معیار کے متاثر ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔

غلام غازی دریائے چناب کے کنارے آباد ہیں، انکا کہنا ہے کہ وہ کئی نسلوں سے مچھلی کا کاروبار کر رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ انکا کاروبار ماضی میں بہت اچھا تھا وہ روزانہ تقریبا 50 من تک بھی مچھلی پکڑتے تھے، مگر جب سے دریا کے پانی میں گندے پانی کے نالے شامل ہوئے ہیں مچھلی مر گئی ہے۔ اب جتنی بھی محنت کر لیں روزانہ 20 کلو سے ایک من تک ہی بمشکل ملتی ہے، چاہے جتنے بھی شکاری چلے جائیں۔ اس سے کسی کا بھی اب گزارا نہیں ہوتا۔ اگر یہ گندے پانی کے نالے بند ہو جائیں تو انہیں امید ہے کہ دوبارہ خوشحالی آجائے گی۔ دریا خوشحال ہوگا تو اسکے قریب آباد لوگ بھی خوشحال ہونگے۔

غلام غازی کا مزید کہنا ہے کہ اب تو جب سیلاب آتا ہے تو مچھلی کو صاف پانی ملتا ہے وہ خوش ہوتی ہے اور بچے دیتی ہے، جس سے انکی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ مگر جب دریائے چناب کا گندا پانی آتا ہے وہ مچھلی مر جاتی ہے۔ دریائے جہلم کی مچھلی بچ جاتی ہے، مگر دریائے چناب کی مچھلی مر جاتی ہے۔ مچھلی میں سے بدبو بھی آنا شروع ہوجاتی ہے۔

دریا میں شامل ہونے والے پانی کے حوالے سے انکا کہنا ہے کہ اس پانی میں فیکٹریوں کے خارج ہونے والے زہریلے پانی شامل ہورہے ہیں۔ اگر یہ پانی دریا میں اس طرح نہ ڈالا جائے تو دریا میں خوشحالی لوٹ سکتی ہے۔

دریاوں میں موجود مچھلی کے اقسام کی بقا کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ اب بہت سے مچھلی کی اقسام یہاں سے ختم ہوچکی ہیں۔ انکے بقول جن مچھلی کی اقسام کا ذکر انکے بزرگ کرتے ہیں وہ انہوں نے اب نہیں دیکھیں۔

ماہرین کے مطابق دریاؤں میں موجود خوردبینی جاندار، جنہیں پلانکٹن کہا جاتا ہے، آبی حیات کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ جھنگ کے مقام ہیڈ تریموں پر کی گئی ایک تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں پانی میں پودا نما جانداروں کا تناسب غیر معمولی طور پر زیادہ، جبکہ جانور نما جاندار انتہائی کم رہ گئے ہیں، جو ایکو سسٹم کے عدم توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافہ اور آلودگی اس تبدیلی کی بڑی وجوہات ہیں، جو بالآخر مچھلیوں اور دیگر آبی حیات کو متاثر کر رہی ہیں۔

محمد ریاض بھی مچھلی کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیس پچیس سال کے تجربے کی بنیاد پر کہ سکتے ہیں کہ اس عرصہ میں مچھلی کی بہت سی اقسام میں فرق پڑا ہے۔ اسکے ساتھ انکی پیداوار میں بھی فرق پڑا ہے وہ اس لئے کہ جب مچھلی کا بچہ انچ دو انچ کا ہوتا ہے ساتھ انکا موسم آتا ہے وہیں فیکٹریوں کا گندا پانی دریائے چناب میں شامل ہوجاتا ہے اور وہ مرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ مچھلی بھی بدبودار ہوجاتی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اس گندے پانی سے جہاں تک پانی پہنچتا ہے مچھلی مررہی ہے۔ دریائے چناب  میں شامل ہونے والے گندے پانی کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ اس میں سیوریج اور فیکٹروں کا گندا پانی شامل ہو رہا ہے۔ انکا ماننا ہے کہ دریائے جہلم کا پانی ابھی بھی قدرے بہتر ہے ۔

دریائے چناب کے ہیڈ ٹرِموں پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق اس علاقے میں مچھلیوں کی 43 اقسام پائی جاتی ہیں، جو بظاہر ایک بھرپور حیاتیاتی تنوع کی نشاندہی کرتی ہیں، تاہم اس تنوع پر ماحولیاتی تبدیلی اور انسانی سرگرمیوں کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آلودہ پانی، خصوصاً دریائے توی سے آنے والی آلودگی، مچھلیوں میں جلدی اور فِن کی بیماریوں کا سبب بن رہی ہے، جبکہ درجہ حرارت میں اضافہ اور پانی کے بہاؤ میں تبدیلی ایکو سسٹم کو متاثر کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حد سے زیادہ اور غیر قانونی شکار، غیر ملکی مچھلیوں کا اضافہ اور قدرتی مسکن کی تباہی کے باعث قیمتی مقامی مچھلیوں جیسے روہو، موری اور تھيلا کی تعداد میں واضح کمی دیکھی گئی ہے، جس سے نہ صرف دریائی ماحول بلکہ مقامی ماہی گیروں کی معیشت بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

آبی حیات پر کلائمیٹ چینج کے بڑھتے اثرات کے باوجود اس اہم مسئلے کی مؤثر رپورٹنگ پاکستان میں متعدد رکاوٹوں کا شکار ہے۔ فیلڈ میں کام کرنے والے صحافیوں کے مطابق جب وہ دریاؤں، جھیلوں یا زرعی علاقوں میں پانی کی کمی، آلودگی یا ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر سٹوریز کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں نہ صرف ڈیٹا تک رسائی میں مشکلات پیش آتی ہیں، بلکہ مختلف اداروں کی جانب سے دباؤ اور غیر رسمی رکاوٹوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی مواقع پر ادارے ‘نیشنل انٹرسٹ‘ یا ترقیاتی منصوبوں کا جواز پیش کرتے ہوئے ایسے حقائق کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں جو آبی حیات، مثلاً مچھلیوں، آبی پودوں اور ایکو سسٹمز پر منفی اثر ڈال رہے ہوتے ہیں۔

کلائمیٹ کے حوالے سے سٹوریز کرنے والے ایک معروف صحافی نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ بطور جرنلسٹ عمومی طور پر پاکستان میں یہی سمجھا جاتا ہے کہ جب تک کسی صحافی کو اٹھایا نہ جائے یا اس پر تشدد نہ کیا جائے، تب تک سب کچھ ٹھیک ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جب جرنلسٹس سچی اور عوامی مفاد کی سٹوریز کرتے ہیں تو انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی سٹوریز میں مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالا جاتا ہے، جن میں دھمکیاں بھی شامل ہیں۔ کئی بار ڈیٹا تک رسائی نہیں دی جاتی اور ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ آپ اپنا کام نہ کر سکیں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کسی جگہ کوریج کے لیے جاتے ہیں تو آپ کو مختلف بہانوں سے روکا جاتا ہے۔

انکا مزید کہنا ہے کہ میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا۔ ایک ادارہ کسانوں کی زمینوں پر ہل چلا رہا تھا۔ جب میں اس کی کوریج کے لیے گیا تو سکیورٹی گارڈز نے مجھے روک لیا اور کہا کہ فلاں صاحب سے بات کریں۔ اس طرح کی صورتحال بھی ایک قسم کا دباؤ اور بالواسطہ دھمکی ہوتی ہے۔ جب ہم بطور جرنلسٹ اداروں کا مؤقف لینے کی کوشش کرتے ہیں تو بظاہر ادارے کا فرض ہوتا ہے کہ وہ مؤقف دے، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ صرف اپنی مرضی کے مطابق بیانیہ دیتے ہیں، خاص طور پر ان سٹوریز میں جو عوامی مفاد سے متعلق ہوں۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ ایک اور واقعہ میں ہم کسانوں کے احتجاج کی کوریج کر رہے تھے۔ ادارے کے پبلک ریلیشن آفیسر آئے اور تمام جرنلسٹس کو اندر بلا کر چائے اور بریفنگ دی، جبکہ باہر کسان احتجاج کر رہے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مین سٹریم میڈیا پر وہی بریفنگ چل گئی، جبکہ اصل احتجاج نظر انداز ہو گیا۔ اسی طرح ایک ڈیویلپمنٹ ادارہ، جو عمران خان کے دور میں بنا، انٹرویوز نہیں دیتا تھا۔ بڑی مشکل سے میں نے وقت لیا۔ جب میں وہاں پہنچا تو انہوں نے مجھے پہچان لیا اور باقاعدہ بٹھا کر ’نیشنل انٹرسٹ‘ کے نام پر لیکچر دینا شروع کر دیا، حالانکہ میری سٹوری کلائمٹ سے متعلق تھی۔ جب آپ تحقیق کر کے، ڈاکومنٹس پڑھ کر جاتے ہیں تو آپ آسانی سے مطمئن نہیں ہوتے، اور میں بھی نہیں ہوا۔ ادارے اپنا کام کرتے ہیں، لیکن جرنلسٹس کے لیے کام کرنا آسان نہیں ہوتا۔

انکا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک جرنلسٹس کی حفاظت کا تعلق ہے تو میں اس معاملے پر خود پریشان ہوتا ہوں کہ آخر ہم اپنی حفاظت کے لیے کس سے رجوع کریں۔ عام طور پر یونینز کو جرنلسٹس کی نمائندگی کرنی چاہیے، لیکن جب وہی یونینز حکومت سے مراعات، پلاٹس یا سبسڈی لے رہی ہوں تو وہ مؤثر انداز میں آواز نہیں اٹھا سکتیں۔ جہاں تک میڈیا آرگنائزیشنز کا تعلق ہے، بعض ادارے واقعی جرنلسٹس کی سیفٹی کو اہمیت دیتے ہیں اور ہر پہلو کو دیکھتے ہیں، لیکن مجموعی طور پر ابھی بھی اس شعبے میں بہتری کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

3 بجلی تقسیم کار کمپنیاں نجکاری کے قریب، نجکاری بورڈ نے تنظیم نو کی منظوری دے دی

آزاد کشمیر: انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام، مسلم لیگ ن نے پہلے مرحلے میں میدان مار لیا

ہونڈا اٹلس کا پاکستان کی الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ میں فوری اینٹری سے انکار، وجہ کیا ہے؟

کنگ چارلس کا برطانوی ایف 35 بی لڑاکا طیاروں کا معائنہ، فوجی اہلکاروں سے ملاقات

اسحاق ڈار کی زیرصدارت اجلاس، اقتصادی سفارت کاری، بین الوزارتی رابطوں اور سفارتی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے پر زور

ویڈیو

آزاد کشمیر: انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام، مسلم لیگ ن نے پہلے مرحلے میں میدان مار لیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے اچھی بات چیت کا اعتراف، پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز

امریکی کانگریس کے وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی