روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور ایران سے متعلق صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے جنگ بندی اور سفارتی حل کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ بات کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے بتائی۔ اوشاکوف کے مطابق گفتگو کے دوران صدر پیوٹن نے وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے کے موقع پر صدر ٹرمپ پر ہونے والی حالیہ قاتلانہ کوشش کی مذمت کرتے ہوئے ان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ روسی صدر نے واضح کیا کہ سیاسی تشدد کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔
یہ بھی پڑھیے روس ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے، ولادی میر پیوٹن کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک گفتگو
روسی رہنما نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے امریکی فیصلے کی حمایت بھی کی اور امریکا و اسرائیل اور تہران کے درمیان دوبارہ کشیدگی بڑھنے کے خطرات سے خبردار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسکو اس تنازع میں ثالثی کے لیے تیار ہے اور تمام فریقوں سے رابطے میں ہے۔
اوشاکوف کے مطابق پیوٹن نے اس بات پر زور دیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل دوبارہ طاقت کا استعمال کرتے ہیں تو اس کے نہ صرف ایران اور اس کے ہمسایہ ممالک بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے ایران کی سرزمین پر کسی بھی زمینی کارروائی کو ناقابل قبول اور خطرناک قرار دیا۔
دونوں صدور کے درمیان یوکرین جنگ اور اس کے خاتمے کی کوششوں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ اوشاکوف کے مطابق دونوں رہنماؤں نے یوکرین کی قیادت کے طرزِ عمل پر تقریباً یکساں مؤقف اپنایا اور کہا کہ یورپی ممالک کی حمایت سے جنگ کو طول دیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے جلد از جلد جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس مقصد کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہیں، جبکہ ان کے نمائندے ماسکو اور کیف دونوں سے رابطے جاری رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیے اگر روس ایران کے ساتھ خفیہ معلومات شیئر کرے تو ٹرمپ خوش نہیں ہوں گے، وائٹ ہاؤس
یہ گفتگو روس کی جانب سے شروع کی گئی تھی اور 90 منٹ سے زائد جاری رہی۔ اس دوران ٹرمپ نے روس کی جانب سے اعلان کردہ ایسٹر جنگ بندی کو سراہا، جبکہ پیوٹن نے آئندہ یومِ فتح کی تقریبات کے دوران یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی تجویز پیش کی، جس کی ٹرمپ نے حمایت کی۔
بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اس رابطے کو ’انتہائی مثبت‘ قرار دیا اور کہا کہ بات چیت کا زیادہ تر حصہ یوکرین پر مرکوز رہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس تنازع کا حل جلد نکال لیا جائے گا۔














