اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ نے غزہ جانے والے امدادی بحری قافلے کی اسرائیلی بحریہ کی جانب سے روکنے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’سرحدوں سے ماورا اپارتھائیڈ‘ قرار دیا ہے، جبکہ واقعے نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔
اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے مقبوضہ فلسطینی علاقے فرانسسیکا البانیز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ انتہائی تشویشناک ہے کہ اسرائیل کو یورپ کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں پر حملہ اور قبضہ کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ یہ اقدام پورے یورپ کے لیے خطرے کی گھنٹی ہونا چاہیے۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے بدھ کی رات غزہ کی جانب جانے والے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کو اس وقت روک لیا جب یہ قافلہ محصور علاقے تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیے بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی کارروائی، غزہ جانے والے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے 7 جہاز تحویل میں
قافلے کے منتظمین کے مطابق اسرائیلی فورسز نے یونان کے جزیرے کریٹ کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں کشتیوں کو گھیر لیا، مواصلاتی نظام جام کر دیا اور 21 کشتیوں کو تحویل میں لے لیا، جبکہ 17 کشتیاں بچ نکلنے میں کامیاب ہو کر یونانی پانیوں میں داخل ہو گئیں۔
یہ بحری قافلہ غزہ کے لیے انسانی امداد لے کر جا رہا تھا اور اس کا مقصد اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑتے ہوئے سمندر کے راستے ایک انسانی راہداری قائم کرنا تھا۔
مزید پڑھیں: اسرائیل کے ہاتھوں گرفتار ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے اطالوی رکن نے اسلام قبول کرلیا
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب عبرانی میڈیا نے چند گھنٹے قبل ہی رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل اس قافلے کو روکنے کی تیاری کر رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس فلوٹیلا میں تقریباً 100 کشتیاں شامل تھیں، جن پر مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے قریب ایک ہزار کارکن سوار تھے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے 2007 سے غزہ پر ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے، جبکہ حالیہ جنگ کے نتیجے میں تقریباً 24 لاکھ کی آبادی میں سے 15 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔














