اقوام متحدہ کے اقتصادی کمیشن (ای سی ای) کے سربراہ ڈیریو لیگوٹی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے اور آج برینٹ خام تیل کی قیمت 118 ڈالر تک پہنچنے کے بعد دنیا بھر میں ایندھن، گیس اور توانائی کے دیگر وسائل کی کمی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے آگاہ کیا ہے کہ وہ بحران کی حالت میں ہے اور چاہتا ہے کہ ہم آبنائے ہرمز کھول دیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
ڈیریو لیگوٹی نے بتایا کہ اس بحران کے اثرات سب سے پہلے جنوب مشرقی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں محسوس ہوئے لیکن اب یہ اثرات یورپ تک پہنچ رہے ہیں جہاں گاڑیوں کے مالکان کو بھی ایندھن کے مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ دنیا کی معیشتیں ابھی بھی بڑی حد تک معدنی ایندھن پر انحصار کرتی ہیں اور جغرافیائی یا سیاسی مسائل سے متاثر ہوتی ہیں اس لیے ’ای سی ای‘ ایسے طریقے تلاش کر رہا ہے جن سے معدنی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے یا کم از کم انہیں زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ قدرتی گیس (میتھین) بھی ایک ایسا ذریعہ ہے جسے زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس گیس کو جلانے کے بجائے محفوظ کر کے ضرورت کے وقت استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے توانائی کے بنیادی ذرائع پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمیشن میتھین کے اخراج کو کم کرنے کی کوششوں میں بھی قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے کیونکہ یہ گیس عالمی حدت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
قابل تجدید توانائی کی اہمیت
ڈیریو لیگوٹی نے زور دیا کہ موجودہ بحران ایک واضح اشارہ ہے کہ ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی کو تیز کرنا ہوگا اور اس ضمن میں خاص طور پر نقل و حمل اور حرارت سے متعلق شعبوں میں بجلی کے استعمال کو فروغ دینا ضروری ہے۔
مزید پڑھیے: پیٹرول پرائس میں اضافہ، پی ٹی آئی میں لڑائیاں، ایران نے امریکا کو حتمی تجاویز بھیج دیں
قابل تجدید توانائی کا استعمال تیزی سے بڑھانا ہوگا کیونکہ یہ نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ بجلی کے تحفظ کے اعتبار سے بھی زیادہ محفوظ اور خودمختار ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔
لبنان میں غذائی عدم تحفظ
لبنان میں جنگ کے معاشی اثرات لوگوں کی زندگیوں پر گہرے اثرات ڈال رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی قیمتیں اور رسد میں رکاوٹیں غذائی عدم تحفظ کو بڑھا رہی ہیں جس کے نتیجے میں ملک کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی شدید بھوک کا شکار ہو چکی ہے۔
غذائی تحفظ کے مراحل کی مربوط درجہ بندی (آئی پی سی) کے مطابق اگست تک اندازاً 12 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے جو سنہ 2025 کے آخر اور سنہ 2026 کے آغاز میں متاثر ہونے والے 8 لاکھ 74 ہزار افراد کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں میں اضافہ کر رہا ہے۔
عوامی خدمات پر دباؤ
نقل مکانی اور کمزور عوامی خدمات نے اس بحران کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اسپتالوں کی مدد کر رہا ہے جس میں خون کے ذخائر کی معاونت بھی شامل ہے تاکہ ہنگامی حالات میں لوگوں کی زندگیوں کو بچایا جا سکے۔
تاہم امدادی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ ضروریات وسائل سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہیں اور آبنائے ہرمز کا بحران نہ صرف علاقائی مسئلہ ہے بلکہ ایک عالمی دھچکا ہے جو پہلے سے موجود مسائل کو مزید بڑھا رہا ہے۔












