امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی نے دونوں ممالک کے درمیان جاری لڑائی کو ’اختتام پذیر‘ کر دیا ہے، اور یہی مؤقف کانگریس میں جنگی اختیارات سے متعلق قریب آنے والی ڈیڈلائن کے تناظر میں اختیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا ایران سے جنگ دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ، معاہدے کی خواہش کا بھی دعویٰ
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی دشمنی اب قانونی و آئینی طور پر ختم تصور کی جا رہی ہے کیونکہ فریقین کے درمیان گزشتہ تین ہفتوں سے کوئی براہِ راست جھڑپ یا فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا۔

اہلکار کے مطابق انتظامیہ کا مؤقف یہ ہے کہ جاری نازک جنگ بندی کے بعد عملی طور پر ’ہاسٹیلٹیز‘ یعنی دشمنی کی کیفیت ختم ہو چکی ہے، اسی لیے جنگی اختیارات سے متعلق 1973 کے قانون کے تحت 60 دن کی مدت کا اطلاق بھی اسی بنیاد پر دیکھا جا رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق اس سے قبل امریکی کانگریشنل ماہرین اور مشیروں کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ یا تو کانگریس کو 30 دن کی توسیع کا نوٹس دیں گے یا پھر اس ڈیڈلائن کو نظرانداز کرتے ہوئے یہ مؤقف اپنائیں گے کہ جنگ بندی ہی تنازع کے خاتمے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران تنازع اور ہرمز کی بندش، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں
واضح رہے کہ 1973 کے وار پاورز ایکٹ کے تحت امریکی صدر کو محدود مدت تک فوجی کارروائی کی اجازت ہوتی ہے، جس کے بعد یا تو کانگریس کی منظوری ضروری ہوتی ہے یا پھر جنگی کارروائی روکنا لازم ہو جاتا ہے، تاہم ہنگامی صورت حال میں 30 روز کی اضافی توسیع بھی دی جا سکتی ہے۔














