امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں عندیہ دیا ہے کہ امریکا کو شاید جنگ دوبارہ شروع کرنا پڑے، تاہم انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تہران معاہدہ کرنے کے لیے بے حد بے چین ہے۔
President Trump said the US “might need” to restart its war with Iran, but also claimed that Tehran wants “to make a deal badly”, adding that “nobody knows what the talks are except myself and a couple of other people”.
🔴 Follow our LIVE coverage: https://t.co/D9gteTeDrn pic.twitter.com/QbZtta5HSk
— Al Jazeera English (@AJEnglish) May 1, 2026
اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران معاہدے کے لیے شدت سے کوشاں ہے، جبکہ مذاکرات کی تفصیلات انتہائی محدود افراد تک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات کے بارے میں میرے اور چند دیگر لوگوں کے علاوہ کسی کو کچھ معلوم نہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بات چیت خفیہ سطح پر جاری ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر مذاکرات مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تو امریکا کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں، جن میں عسکری اقدام بھی شامل ہو سکتا ہے۔ ان کے اس بیان کو خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ امریکا کو آمرانہ ریاست بنا رہے ہیں، ہیومن رائٹس واچ کا انتباہ
سیاسی و سفارتی حلقوں کے مطابق ایک جانب دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے، تو دوسری جانب ممکنہ معاہدے کی راہیں بھی کھلی رکھی گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے تعلقات پہلے ہی نازک مرحلے میں ہیں۔
تنازع کے خاتمے کا امکان کم
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے یا اس میں توسیع کے حوالے سے اہم ڈیڈ لائن قریب آ گئی ہے، تاہم تنازع کے فوری ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جمعہ کے روز یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جنگ کو ختم کریں یا کانگریس کو اس میں توسیع کی وجوہات پیش کریں۔
رائٹرز کے مطابق اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ وائٹ ہاؤس یا تو 30 دن کی توسیع کی اطلاع دے گا یا ڈیڈ لائن کو نظر انداز کرے گا، جبکہ انتظامیہ یہ مؤقف اختیار کر سکتی ہے کہ ایران کے ساتھ موجودہ سیز فائر ہی تنازع کے خاتمے کے مترادف ہے۔

امریکی کانگریس میں اس معاملے پر شدید سیاسی تقسیم دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ڈیموکریٹس مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ کانگریس اپنے آئینی اختیارات کے تحت جنگ کے اعلان یا اس کی منظوری میں کردار ادا کرے، جبکہ ریپبلکنز صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے حامی ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ ڈیموکریٹس جنگی اختیارات کے قانون کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران تنازع اور ہرمز کی بندش، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں
رپورٹ کے مطابق جنگ 28 فروری کو اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیل اور امریکا نے ایران پر فضائی حملے کیے، جس کے بعد 48 گھنٹوں میں کانگریس کو باضابطہ اطلاع دی گئی اور 60 روزہ آئینی وقت کا آغاز ہوا جو یکم مئی کو مکمل ہو رہا ہے۔
ادھر امریکی حکام کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ایران کے خلاف ممکنہ نئے حملوں کے منصوبوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ تہران کو مذاکرات پر آمادہ کیا جا سکے۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر حملے دوبارہ شروع ہوئے تو وہ امریکی مفادات پر سخت ردعمل دے گا۔

امریکی صدر ٹرمپ کے قریبی حلقوں کے مطابق انتظامیہ کانگریس سے باضابطہ منظوری لینے کے بجائے اپنے موجودہ قانونی مؤقف پر قائم رہ سکتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر کانگریس سے مسلسل مشاورت جاری ہے۔
یہ تنازع نہ صرف امریکی داخلی سیاست کو متاثر کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر توانائی اور سلامتی کے معاملات پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جبکہ آئندہ دنوں میں صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا امکان ہے۔














