گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں اتحادی حکومت کے قیام کے لیے کوششیں جاری ہیں اور اس حوالے سے مختلف سیاسی رہنماؤں سے رابطے بھی ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں ملاقاتیں ایک معمول کی بات ہوتی ہیں اور مولانا سے بھی رابطہ برقرار ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں اپنی مضبوط سیاسی حیثیت قائم کر لی ہے اور صوبے میں پارٹی کے سب سے زیادہ منتخب نمائندے اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: نواز شریف کی ہدایت پر مسلم لیگ (ن) کا خیبرپختونخوا میں عوامی رابطہ مہم تیز کرنے کا فیصلہ
فیصل کریم کنڈی نے تحریک انصاف کے اندرونی معاملات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے کچھ افراد وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے خواہاں تھے، اور جب قیادت کو اپنے اندر موجود ‘میر جعفر’ اور ‘میر صادق’ کا علم ہوا تو تبدیلی عمل میں آئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کچھ عناصر ڈیرہ اسماعیل خان ائیرپورٹ منصوبے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم حکومت اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
ایک سوال کے جواب میں گورنر خیبرپختونخوا نے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ممکنہ واپسی سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ جو شخص ایک بار تحریک انصاف سے الگ ہو جائے، اس کی واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔














