انسانی حقوق کی بات کرنے والی پی ٹی ایم ملک میں دہشتگردی پر خاموش، چہرہ بے نقاب

اتوار 3 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں سے متعلق منظور پشتین اور پی ٹی ایم کی جانب سے پیش کیے گئے نکات کی حقیقت منظر عام پر آگئی۔ انسانی حقوق کی بات کرنے والے ملک میں ہونے والی دہشتگردی پر مکمل خاموش نظر آتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان علاقوں میں نقل مکانی اور بے دخلی کسی نسلی بنیاد پر نہیں ہوئی بلکہ اس کی بنیادی وجہ دہشتگردی، شدت پسند عناصر کی موجودگی اور ان کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں تھیں۔

بعد ازاں ان علاقوں میں بحالی اور تعمیر نو کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات بھی کیے گئے تاکہ متاثرہ آبادی کو دوبارہ اپنے علاقوں میں آباد کیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق قدرتی وسائل کے حوالے سے پالیسی آئینی ڈھانچے اور صوبائی انتظامی نظام کے تحت بنائی جاتی ہے اور اسے نسلی بنیادوں پر قبضے کے طور پر پیش کرنا ترقیاتی عمل کے بجائے تقسیم اور غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہے۔

سیکیورٹی اداروں کی جانب سے کیے جانے والے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا مقصد دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرنا ہوتا ہے جو بعض اوقات عام آبادی میں چھپے ہوتے ہیں، اور ان کارروائیوں میں شہری نقصان کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دہشتگردی کے دوران پاکستان نے خود بھی بھاری جانی و مالی نقصان برداشت کیا، اور یہ صورتحال کسی یکطرفہ یا بیرونی طور پر طے شدہ جنگ کا نتیجہ نہیں بلکہ ملک کے اندر دہشتگردی اور شدت پسندی کے پھیلاؤ سے جڑی ہوئی ہے۔

مقامی سطح پر مختلف جرگوں اور عمائدین کی جانب سے بھی شدت پسند عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ سامنے آتا رہا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ کارروائیاں صرف ریاستی سطح پر نہیں بلکہ عوامی مطالبات کے تحت بھی کی گئیں۔

ریاستی اداروں میں تمام صوبوں کی نمائندگی موجود ہے اور فیصلے کسی نسلی بنیاد پر نہیں بلکہ ادارہ جاتی اور آئینی طریقہ کار کے تحت کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح بعض تنظیموں یا سرگرمیوں پر پابندی ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایسی کارروائیاں صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہیں بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات کیے گئے۔

سوشل میڈیا اگرچہ یہ معلومات کے پھیلاؤ کا ذریعہ ہے، تاہم بعض اوقات اس پر یکطرفہ یا جذباتی بیانیہ بھی سامنے آتا ہے جس سے صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں رہتی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پشتونوں نے دہشتگردی سے شدید نقصان اٹھایا۔ امن کے لیے ضروری ہے کہ شدت پسندی کو مسترد کیا جائے۔

کسی بھی تنظیم کی جانب سے سڑکیں بند کرنے جیسے اقدامات عدم استحکام اور معاشی نقصان کا باعث بن سکتا ہے، کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے جمہوری اور آئینی راستے موجود ہیں۔

پی ٹی ایم انسانی حقوق کی بات تو کرتی ہے لیکن دہشتگردی کی کارروائیوں کو نظر انداز کرکے یکطرفہ بیانیہ پیش کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق طویل مدتی استحکام کا راستہ بہتر حکمرانی، ترقی، سیاسی شمولیت، تعلیم اور سیکیورٹی میں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

3ماہ کی گرمیوں کی تعطیلات کے خلاف درخواست، لاہور ہائیکورٹ نے فریقین سے جواب طلب کر لیا

چین نے مشرقِ وسطیٰ جنگ پر خطرے کی گھنٹی بجا دی

ایران امریکا مذاکرات میں بڑی پیش رفت: واشنگٹن اور تہران جنگ نہیں چاہتے، جے ڈی وینس

’ہر کام کے لیے شوہر سے اجازت لینی پڑتی ہے‘، ندا یاسر کا انکشاف

ایران امریکا معاہدے کی امید پھر روشن، آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہاز گزرنے لگے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں

ویڈیو

مجھے ستارہ امتیاز کسی مخصوص شوٹ پر نہیں مجموعی کام کے اعتراف میں ملا، عرفان احسن کا ’حاسدین‘ کو جواب

خیبر پختونخوا: پی ٹی آئی کے 13 سالہ اقتدار کے بارے میں لوگوں کی رائے کیا ہے؟

انمول پنکی نے کن شخصیات کے خلاف بیانات دیے؟ وکیل نے ملاقات کی تفصیلات بتا دیں

کالم / تجزیہ

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا