ون کانسٹیٹیوشن ایونیو معاملے پر حکومت کے خلاف تنقید بلاجواز

اتوار 3 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے ’ٹوئن ٹاورز‘ ایک مرتبہ پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری بحث میں ایک پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ یہاں پر اشرافیہ کی جائیدادوں کی وجہ سے اس بلڈنگ کے حوالے سے کچھ امتیازی رویہ رکھا جا رہا ہے۔

درحقیقت یہ معاملہ مڈل کلاس یا کسی دوسری کلاس کے خلاف نہیں، بلکہ ایک قانونی مسئلہ ہے، جس کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں۔

سوشل میڈیا پر اس بلڈنگ کے بارے میں کئے جانے والے حکومتی اداروں کے ایکشن کے متعلق کئی لوگ تنقید کر رہے ہیں حالانکہ ان میں سے کچھ کے وہاں زاتی فلیٹس بھی ہیں۔

مختلف اکاونٹس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کی کل زمین 108 کنال ہے جس پر متعدد ٹاورز، باغات، بینکوئٹ ہالز، کمرشل ایریاز، پارکنگ لاٹس اور لینڈ اسکیپنگ وغیرہ ہونا تھی، تاہم صرف 8.5 کنال پر تعمیر ہوئی اور باقی زمین پر کچھ رئیل اسٹیٹ مافیا کی نظر ہے، یہ بیانیہ گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہے۔

یہ تعمیرات 2007 تک مکمل ہونی تھیں مگر اس ٹائم لائن کی خلاف ورزی کی گئی۔

یہ تاثر بھی دینے کی کوشش ہو رہی ہے کہ محسن نقوی سی ڈی اے کا نام استعمال کررہے ہیں، اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ سی ڈی اے کی معلومات کے بغیر اقدامات کررہے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ ایک جال ہے، جسے توہینِ عدالت کے زمرے میں بھی دیکھا جا رہا ہے، یعنی عدالتی فیصلوں کو دباؤ کا نتیجہ قرار دینا۔

مزید یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ انتظامی فیصلوں کے لیے سی ڈی اے کی منظوری آخر کیوں ضروری ہوگی۔

کئی سوشل میڈیا صارفین نے اس معاملے پر حکومت کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ جو لوگ ون کانسٹیٹیوشن کے معاملے پر وزیر داخلہ اور حکومت پر تنقید کررہے ہیں ان کے یہاں پر ذاتی مفادات ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp