پاکستان کی سفارتی کامیابی: ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد کا مضبوط پل بن گیا

پیر 4 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنی سفارتی اہمیت کو منوا لیا ہے۔ حالیہ پیشرفت میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کا کردار غیر معمولی طور پر نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے، جسے عالمی سطح پر ایک مثبت اور مؤثر پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ایران نے بعض اہم پیغامات پاکستان کے ذریعے آگے بڑھانے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے بھی اس بات کا اعتراف کیا جا رہا ہے کہ پاکستان خطے میں ایک قابلِ اعتماد رابطہ کار کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان پر دونوں جانب ایک حد تک اعتماد پایا جاتا ہے، جو کسی بھی سفارتی عمل کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران جنگ میں پاکستان کی ثالثی کے باعث لاکھوں زندگیاں محفوظ رہیں، وزیراعظم

پاکستان کا بطور ثالث کردار ایک تسلیم شدہ حقیقت بن چکا ہے، آصف درانی

اس حوالے سے سفارتی ماہر آصف درانی نے پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کا بطور ثالث کردار ایک تسلیم شدہ حقیقت بن چکا ہے، جسے متعلقہ فریقین نے قبول کیا ہے۔

ان کے مطابق یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے کہ پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد اور متوازن ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ کسی بھی ثالثی عمل کی کامیابی کا انحصار بالآخر متعلقہ ممالک کی آمادگی اور سنجیدگی پر ہوتا ہے، تاہم پاکستان نے جس ذمہ داری اور تدبر کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا ہے، وہ عالمی سطح پر اس کے اعتماد اور وقار میں اضافے کا باعث بنا ہے۔

آصف درانی کے مطابق اس پیشرفت نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی پختگی کو بھی نمایاں کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ دفاعی اور اسٹریٹجک میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مؤثر اظہار کر چکا ہے، جس کے باعث عالمی برادری اسے ایک سنجیدہ اور بااعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں آصف درانی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنی سفارتی کامیابیوں کو مضبوط معاشی بنیادوں کے ساتھ ہم آہنگ کرے، تاکہ اس کا مثبت اثر مزید دیرپا ہو سکے۔

ان کے مطابق اگر پاکستان اسی دانشمندانہ حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو وہ عالمی امن اور استحکام میں ایک مؤثر اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان پل کا کردار ادا کررہا ہے، مسعود خالد

سابق سفیر مسعود خالد کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور امن دوست ملک کے طور پر ایران اور امریکا کے درمیان پل کا کردار ادا کررہا ہے۔ ہم نے ایران کی تجاویز دیانت داری کے ساتھ امریکی حکام تک پہنچا دی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اب یہ دونوں ممالک پر منحصر ہے کہ وہ ان تجاویز کو کس سنجیدگی سے لیتے ہیں اور مذاکرات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ پاکستان کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جائے اور خطے میں کشیدگی کے بجائے امن کو فروغ دیا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ ایران نے اپنی اہم اور حساس تجاویز ہم پر اعتماد کرتے ہوئے ہمارے ساتھ شیئر کیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد اور مخلص ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہاکہ ہم نہ صرف غیر جانبداری سے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ پوری سنجیدگی سے فریقین کو قریب لانے کی کوشش بھی کررہے ہیں۔

مسعود خالد نے کہاکہ عالمی برادری نے بھی پاکستان کی ان کوششوں کو سراہا ہے، جس سے دنیا میں ہمارے ملک کا مثبت تاثر مزید مضبوط ہوا ہے۔ اس عمل کے نتائج کچھ بھی ہوں، پاکستان کی ساکھ پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ ہم نے خلوص نیت اور ایمانداری کے ساتھ امن کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے خطے میں امن اور استحکام نہایت اہم ہے، اور ہم آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔

پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان قابل اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آیا، فیضان ریاض

اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے اسسٹنٹ ریسرچ ایسوسی ایٹ فیضان ریاض کہتے ہیں کہ پاکستان اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان ایک نہایت اہم اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ دونوں فریق اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پاکستان ایک غیر جانبدار اور محفوظ رابطہ کاری کا ذریعہ ہے۔

فیض ریاض کے مطابق ایران نے اپنی تازہ تجویز پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائی، اور اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں مذاکرات کا پہلا دور بھی ہوا۔ اس سے پہلے پاکستان نے ایک مشکل صورتحال میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا، جب اپریل میں اعلیٰ قیادت نے امریکا اور ایران سے رابطے کر کے ایک عارضی جنگ بندی کرانے میں مدد دی۔

انہوں نے کہاکہ اس سے یہ ظاہر ہوا کہ پاکستان کشیدگی کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن اصل اختلافات ابھی برقرار ہیں۔ امریکا ایران کے جوہری پروگرام پر سخت مؤقف رکھتا ہے، جبکہ ایران اپنے بعض اقدامات پر نرمی دکھانے کے لیے تیار ہے، مگر مکمل طور پر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

پاکستان پر اعتماد میں واضح اضافہ ہوا ہے

فیضان ریاض کے مطابق پاکستان پر اعتماد میں واضح اضافہ ہوا ہے، ایران نے خود یہ بات کہی ہے کہ وہ بات چیت کے لیے پاکستان کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ اسے پاکستان پر بھروسہ ہے، جبکہ امریکا کی طرف سے بھی اعلیٰ سطح پر روابط بڑھے ہیں اور پاکستان کو علاقائی مذاکراتی عمل میں شامل کیا گیا ہے، جو اس کے بڑھتے ہوئے کردار کی علامت ہے۔ تاہم دونوں فریق محتاط ہیں اور اپنے اپنے تحفظات بھی رکھتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا سفارتی کردار ایک مثبت پیشرفت ہے۔ اس سے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بہتر ہوئی ہے اور یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان صرف ایک پس منظر کا ملک نہیں بلکہ ایک فعال سفارتی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جامع معاہدہ کروانے کے لیے اب کیا کوششیں کررہا ہے؟

انہوں نے کہاکہ مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے پاکستان کی ان کوششوں کو سراہا ہے۔ اگر خلیجِ عرب کے راستے میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو اس کا فائدہ تیل کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں پاکستان کی معیشت کو بھی پہنچ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اگر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر ہوتے؟

پنجاب میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان بننے والی کوآرڈینیشن کمیٹی کیوں ختم کردی گئی؟

نیا ڈیٹنگ ٹرینڈ: لوگ اپنے سابقہ پارٹنرز کے اے آئی ورژن بنانے لگے، ماہرین پریشان

وائٹیلٹی ٹی 20 بلاسٹ 2026: پاکستان کے ’ٹو ایلبو‘ مسٹری اسپنر عثمان طارق وارکشائر بیئرز میں شامل

بھارت: جالندھر میں بی ایس ایف ہیڈکوارٹر کے باہر زور دار دھماکا

ویڈیو

امریکی صدر کی اسٹریٹجی ناکام، ایران سے مذاکرات کی جلدی

کراٹے کامبیٹ: پاکستان کے شاہ زیب رند نے یوایف سی فائٹر آندرے ایول کو ناک آؤٹ کر دیا

ریاض میں کرکٹ کا بڑا میلہ اختتام پذیر

کالم / تجزیہ

اگر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر ہوتے؟

انڈین بنگال میں ممتا بنرجی کو کیسے ہرایا گیا؟

ٹریل 5: فطرت، تنہائی اور خودکلامی