اسلام آباد ہائیکورٹ سے تبادلہ ہو کر آنے والے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے لاہور ہائیکورٹ میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، انہوں نے عدالت میں کام کے پہلے روز باپ کی بیٹی سے ملاقات کا شیڈول جاری کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔
دوران سماعت عدالت نے بچی کی اپنے والد سے ملاقات کا شیڈول معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی۔ عدالت نے اس معاملے پر متعلقہ فریقین کو باقاعدہ نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جوڈیشل کمیشن اجلاس: جسٹس محسن اختر کیانی لاہور، بابر ستار پشاور اور جسٹس ثمن رفعت کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ
سماعت کے دوران ایک جذباتی منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب عدالت نے 15 سالہ بچی زینب کو روسٹرم پر طلب کیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی کے اس سوال پر کہ کیا وہ اپنے والد سے نہیں ملنا چاہتیں، بچی نے جواب دیا کہ والد نے 10 سال پہلے والدہ کو طلاق دے دی تھی اور اسے صرف اس کی ماں نے پالا ہے، اس لیے وہ اپنے والد سے کبھی نہیں ملنا چاہتی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ باپ کا فرض ہے کہ وہ بیٹی کا دل نرم کرے، دوسرے فریق کو سنے بغیر شیڈول کیسے معطل کیا جاسکتا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ بچی کو ملاقات کے لیے کوئی مجبور نہیں کرے گا اور نہ ہی ملاقات نہ کرنے پر اس کے وارنٹ جاری ہوں گے۔ بعد ازاں عدالت نے درخواست پر مزید کارروائی 16 مئی تک ملتوی کردی۔
یہ بھی پڑھیں: ’ججز کٹہرے میں ملزم جیسا محسوس کرتے ہیں‘، جسٹس محسن اختر کیانی
یاد رہے کہ حال ہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز جسٹس بابر ستار، جسٹس ثمن رفعت ، اور جسٹس محسن اختر کیانی کا دیگر ہائیکورٹس میں تبادلہ کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی کا تبادلہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور ہائیکورٹ کیا جاتا ہے۔ جسٹس بابر ستار کا اسلام آباد ہائیکورٹ سے پشاور ہائیکورٹ تبادلہ کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا اسلام آباد ہائیکورٹ سے سندھ ہائیکورٹ تبادلہ کیا گیا ہے۔














