صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقوں کے ہاتھوں اغوا کیے گئے آئل ٹینکر MT Honour 25 پر موجود 11 پاکستانی ملاحوں کی زندگیوں سے متعلق تشویشناک صورتحال برقرار ہے۔ اغوا کو 2 ہفتوں سے زیادہ کا وقت گزر جانے کے باوجود ملاحوں کی بحفاظت واپسی ممکن نہیں ہو سکی، جس کے باعث متاثرہ خاندانوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔
لواحقین کے مطابق اغوا کیا گیا جہاز اس وقت صومالیہ کے نیم خود مختار علاقے پونٹ لینڈ کے ساحلی شہر ایلو کے قریب لنگر انداز ہے۔
مزید پڑھیں: صومالیہ کی تعاون کی یقین دہانی، یرغمال پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے اقدامات تیز
دفتر خارجہ کے مطابق جہاز پر مجموعی طور پر 17 افراد موجود ہیں، جن میں 10 سے 11 پاکستانی اور ایک انڈونیشیائی کپتان شامل ہیں۔
متاثرہ خاندانوں کا مؤقف اور مطالبات
کراچی کے علاقوں بفرزون اور دیگر مقامات سے تعلق رکھنے والے ملاحوں کے اہل خانہ نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
متاثرہ خاندانوں کے فوکل پرسن سید حسین یوسف اور سیکنڈ آفیسر کاشف عمر کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ہمیں دفترِ خارجہ یا کسی سرکاری ادارے سے کوئی ٹھوس معلومات نہیں مل رہیں۔ حکومت فوری طور پر ایک فوکل پرسن مقرر کرے جو ہمیں روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ دے۔
ملاحوں کے بچوں، خصوصاً سیدہ معصومہ بتول نے روتے ہوئے وزیراعظم اور آرمی چیف سے اپیل کی ہے کہ میرے والد کو واپس لائیں، ہم ان کے بغیر جی نہیں سکتے۔
خاندانوں کا دعویٰ ہے کہ قزاقوں نے عملے پر تشدد کیا ہے اور جہاز پر کھانے پینے کی اشیا بھی ختم ہو چکی ہیں۔
حکومتی سطح پر اس معاملے کو حل کرنے کے لیے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندابی کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان صومالیہ کی وزارتِ خارجہ اور پونٹ لینڈ کے حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ اور صومالی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ملاحوں کی بحفاظت واپسی کے لیے مقامی سطح پر بات چیت کررہے ہیں۔
گورنر سندھ نہال ہاشمی نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات میں واضح کیا کہ وفاقی حکومت اس معاملے کو عالمی سطح پر، بشمول یورپی یونین کے میری ٹائم اداروں کے ساتھ اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ملاحوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
مزید پڑھیں: پاکستانی صومالی بحری قزاقوں کی قید میں، حکومت پاکستان کی سفارتی کوششیں، مغویوں نے اہلخانہ کو کیا بتایا؟
وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید چوہدری نے پاکستان نیوی اور دفترِ خارجہ کو مشترکہ حکمت عملی بنانے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ آپریشن یا مذاکرات کے ذریعے ملاحوں کو چھڑایا جا سکے۔
یہ واقعہ پاکستان کی سمندری حدود سے باہر پیش آیا ہے، جس کی وجہ سے قانونی اور آپریشنل پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ لواحقین کے مطابق قزاقوں کی جانب سے تاحال کسی واضح تاوان کا مطالبہ سامنے نہیں آیا، تاہم عملے کے ساتھ ہونے والا ناروا سلوک صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔













