ایران، امریکا مذاکرات بذریعہ پاکستان بدستورجاری، کیا صدر ٹرمپ دورہ چین کے موقع پر پاکستان آئیں گے؟

منگل 5 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی کا معاملہ جہاں ایک طرف حل کی طرف بڑھتا دکھائی دیتا ہے، وہیں ایسے خدشات بھی ہیں کہ یہ لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی تو علاقائی امن اور عالمی معیشت کے لیے خطرات میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے۔

 گزشتہ روز امریکی بحریہ نے اپنے قبضے میں لیے ہوئے ایرانی جہاز اور اُس کے عملے کو پاکستان کے حوالے کیا، جسے بعدازاں پاکستان نے ایران کے حوالے کر دیا۔ یہ اقدام جہاں ایک طرف امریکا کی جانب سے اعتماد سازی (سی بی ایم) کا ایک قدم تھا، وہیں پاکستان کے ذریعے ایرانی جہاز اور عملے کی واپسی اس کے ثالثی کردار کو اجاگر کرنے کے لیے بھی اہم رہی۔

آج کے روز بین الاقوامی میڈیا پر ایک اور واقعہ بھی رپورٹ ہوا، جس میں بتایا گیا کہ ایران کی جانب سے ایک امریکی جہاز پر 2  میزائل داغے گئے ہیں، کیونکہ امریکی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے ایرانی وارننگ کے باوجود نہیں رُکا۔

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کی خبریں جہاں دنیا بھر میں معدنی تیل کی قیمتیں بڑھا دیتی ہیں، وہیں جنگ بندی اور مذاکرات کی خبریں قیمتیں گھٹا دیتی ہیں۔ اس جنگ کے اثرات نہ صرف تیل پیدا کرنے والے ممالک کی معیشت کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ تیل خریدنے والے ممالک کی معیشت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

کیا صدر ٹرمپ پاکستان آ سکتے ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 14 سے 15 مئی کو چین کا دورہ کریں گے، جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ اس دورے کے دوران جاپان نے صدر ٹرمپ سے اسٹاپ اوور کی درخواست کی ہے اور ممکنہ طور پر وہ جاپان کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔

پاکستان آنے کے بارے میں اس حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ ممکنہ طور پر صدر ٹرمپ پاکستان بھی آ سکتے ہیں، تاہم امریکی اور پاکستانی سفارتی ذرائع سے تاحال ایسی کسی خبر کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔

16 اپریل کو صدر ٹرمپ سے امریکی میڈیا نے پاکستان جانے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ’میں پاکستان جاؤں گا۔ پاکستان بہت اچھا (گریٹ) رہا ہے۔ اگر معاہدہ اسلام آباد میں طے ہوتا ہے تو میں جا سکتا ہوں۔‘

ان کے اس بیان کے تناظر میں اتنا کہا جا سکتا ہے کہ اگر 14/15 مئی سے قبل ایران امریکا مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو ممکن ہے صدر ٹرمپ پاکستان آئیں۔

پاکستان کی ثالثی اور فریقین کا اعتماد

گزشتہ روز امریکا کی جانب سے ایرانی بحری جہاز کا پاکستان کے حوالے کیے جانا، آج ایک بار پھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا اسحاق ڈار کو ٹیلی فون اور اعتماد کا اظہار، اسی طرح امریکی وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ بات چیت پاکستان ہی کے ذریعے ہو؛ مزید بات چیت ہوئی تو اس کا امکان اسلام آباد ہی میں ہے۔

اور پاکستانی دفترِ خارجہ کی حالیہ بریفنگز اور سرکاری بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں پاکستان نہ صرف ثالث بلکہ ایک سہولت کار کے طور پر مسلسل متحرک ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد جو سفارتی کھڑکی کھلی، اس میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات، جنہیں دفترِ خارجہ نے اہم پیش رفت قرار دیا، ترجمان کے الفاظ میں ’ڈپلومیسی کی گھڑی چل رہی ہے‘، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بیک ڈور چینلز بدستور فعال ہیں اور مذاکراتی عمل جاری ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عسکری قیادت، بالخصوص  فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی سطح پر مسلسل سفارتی رابطے اس عمل کی سنجیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ متعدد ٹیلیفونک رابطے اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے 2  مرتبہ اسلام آباد کے دورے اور ٹیلی فونک گفتگو اس سفارتی تسلسل کا حصہ ہیں۔ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی ان کوششوں کو پذیرائی مل رہی ہے۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، کویت، اردن اور ناروے کے وزرائے خارجہ اور کئی دیگر ممالک کے سربراہان نے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے اور اسے خطے میں امن کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

حالیہ پیش رفت

موجودہ سفارتی پیش رفت کے مطابق ایران نے ایک 14 نکاتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچایا ہے، جو دراصل بیک چینل ڈپلومیسی کا حصہ ہے۔ اس منصوبے میں جنگ کے مکمل خاتمے، امریکی فوجی کارروائی نہ کرنے کی ضمانت، پابندیوں کے خاتمے، ایرانی اثاثوں کی بحالی، بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے جیسے اہم نکات شامل ہیں، جبکہ ایک مخصوص مدت کے اندر جامع معاہدے تک پہنچنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

اسی سفارتی عمل کے تحت ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ بھی پاکستان کے ذریعے جاری ہے، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اسلام آباد نہ صرف ثالث بلکہ ایک قابلِ اعتماد کمیونیکیشن بَرِج کے طور پر بھی کام کر رہا ہے۔

متضاد مؤقف میں پاکستان پل کا کردار ادا کر رہا ہے

امریکی مؤقف بظاہر کشیدگی میں کمی، جوہری پروگرام پر شفافیت اور خطے میں استحکام سے متعلق ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہے کہ کسی بھی پیش رفت کے لیے امریکی پابندیوں میں نرمی اور علاقائی دباؤ کا خاتمہ ضروری ہے، جبکہ پاکستان نے ان متضاد مؤقف کے درمیان خود کو ایک پل کے طور پر پیش کیا ہے۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال اس بحران کا مرکزی پہلو بن چکی ہے۔ یہ گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے، اور اس کی بندش عالمی معیشت پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ پاکستان نے اس معاملے پر محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کسی ایک فریق کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے آزادانہ جہاز رانی کی فوری بحالی پر زور دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میر رضا قتل کیس: 19 روز بعد سندھ پولیس نے خاموشی توڑ دی، طبی اور ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ جاری

شامل حسین اور سعد خان کی سینچریاں، شاہین کی تباہ کن بولنگ، پاکستان گولڈ نے نیشنل چیمپیئنز کپ جیت لیا

عمران خان کے لیے این آر او حاصل کرنے کی پی ٹی آئی کی خواہش نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے، خواجہ آصف

ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی کا نیتن یاہو کو غزہ امن منصوبے میں رکاوٹیں نہ ڈالنے کا مشورہ

جی سی ایس ای کے بعد ٹی لیولز، گریڈز کتنے اہم اور اے لیولز سے کیسے مختلف، اس کورس کا پاکستان میں کیا مستقبل ہے؟

ویڈیو

پاکستان میں خواتین معذوری کے ساتھ کن مسائل کا سامنا کرتی ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو ’سفید جھنڈا لہرانے‘ کا مشورہ، ایرانی حکام کو ماہر کھلاڑی بھی قرار دے دیا

6 ماہ کے اندر نئے صوبے بنانے کا فیصلہ، کیا نئی آئینی ترمیم آرہی ہے؟

کالم / تجزیہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟

انتقال کے 29 برس بعد