سندھ پولیس نے میر رضا قتل کیس پر 19 روز بعد پہلی مرتبہ باضابطہ مؤقف جاری کرتے ہوئے پولیس بیان اور طبی رپورٹس میڈیا کے ساتھ شیئر کردیں۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس: سندھ حکومت کا تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ
پولیس کے مطابق اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی ٹیم طبی، ڈیجیٹل، فرانزک اور دیگر شواہد کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے جبکہ مختلف رپورٹس میں سامنے آنے والے نکات کی مزید وضاحت اور تصدیق بھی کی جارہی ہے۔
25 سالہ میر رضا کو مبینہ طور پر کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سے اغوا کیا گیا تھا جس کے بعد 29 جولائی کو ان کی لاش گلستان جوہر میں ایک شادی ہال کے قریب جھاڑیوں سے ملی تھی۔
ابتدائی طور پر اس معاملے میں یہ واضح نہیں تھا کہ میر رضا کو قتل کیا گیا یا ان کی موت خودکشی کے نتیجے میں ہوئی۔
تاہم دوسرے پوسٹ مارٹم کے نتائج نے ان کے اہلخانہ کے اس مؤقف کو مزید تقویت دی کہ میر رضا کو قتل کیا گیا تھا۔ اس کیس کی تحقیقات کو عوام کی جانب سے مسلسل جانچ پڑتال کا سامنا ہے خصوصاً اس لیے کہ ابتدائی تحقیقات میں ہونے والی بعض خامیوں کا اعتراف سندھ پولیس کے سربراہ بھی کرچکے ہیں۔
مزید پڑھیے: میر رضا علی کیس: خودکشی کے مؤقف سے قتل کی تحقیقات تک، 11 اگست تک کیا کچھ بدل گیا؟
سندھ پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق تحقیقاتی ٹیم طبی رپورٹس، ڈیجیٹل شواہد اور اس سے قبل ہونے والی تحقیقات کے طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔ اہلخانہ، دوستوں اور دیگر متعلقہ ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا جارہا ہے۔
پولیس کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کو اب تک دو پوسٹ مارٹم رپورٹس، ایک حتمی رپورٹ اور کیمیائی تجزیے کی 3 رپورٹس موصول ہوچکی ہیں۔ کیمیائی تجزیے کی تازہ ترین رپورٹ 17 اگست کو موصول ہوئی۔ ترجمان کے مطابق ان تمام رپورٹس کا باہمی تقابلی اور تنقیدی جائزہ لیا جارہا ہے۔
تحقیقات کے دوران بعض ایسے نکات بھی سامنے آئے ہیں جن پر مزید وضاحت اور باہمی مطابقت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے تفتیش کار متعلقہ حکام اور اداروں سے مزید معلومات اور تصدیق حاصل کررہے ہیں۔
مزید پڑھیں: میر رضا علی کیس: نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل، ایف آئی آر میں قتل کی دفعات شامل
سندھ پولیس نے موبائل فون اور اسمارٹ واچ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے تجزیے کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی سے رابطہ کیا ہے جبکہ ڈیجیٹل کرنسی سے متعلق معاملات کی تحقیقات کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق موبائل فون کو اَن لاک کرنے میں معاونت کے لیے ایپل کے حکام سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔
Following tickers issued by Sindh Police today. We strongly condemn continued approach of Police claiming confusion & lack of clarity in medical & chemical reports of #ShaheedMirRaza. Any attempts to push narrative of suicide will be suicide for Sindh Govt & Police's credibility. pic.twitter.com/UzF0t7T24v
— M. Jibran Nasir 🇵🇸 (@MJibranNasir) August 18, 2026
پولیس کا کہنا ہے کہ کیمیائی تجزیے کی رپورٹ میں سامنے آنے والے غیر واضح نکات کی وضاحت سے تحقیقات میں اہم پیشرفت متوقع ہے، جس سے کیس کے مختلف پہلوؤں اور دستیاب شواہد کے درمیان روابط قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
جبران ناصر کا رپورٹس میں ’ابہام‘ پر اظہار تشویش
میر رضا کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے سندھ پولیس کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے طبی اور کیمیائی رپورٹس میں ابہام کی نشاندہی کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
جبران ناصر نے کہا کہ پولیس کی جانب سے رپورٹس میں مسلسل ’الجھن‘ اور ’عدم وضاحت‘ کا حوالہ دیا جانا باعث تشویش اور افسوس ناک ہے۔
انہوں نے دستیاب شواہد اور رپورٹس کی بنیاد پر شفاف تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیے: میر رضا علی قتل یا خودکشی؟ آخری 48 گھنٹوں میں کیا ہوا، ٹائم لائن نے کیس کے کئی راز بے نقاب کر دیے
جبران ناصر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں خودکشی کے بیانیے کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے لکھا کہ ’خودکشی کے بیانیے کو آگے بڑھانے کی کوئی بھی کوشش سندھ حکومت اور پولیس کی ساکھ کے لیے خودکشی ثابت ہوگی۔‘














