سعودی عرب کی پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے پر زور

منگل 5 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے تاکہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کر کے خطے میں امن قائم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا پاکستانی عازمین حج کے لیے سعودی عرب میں 35 جدید کلینکس قائم کرنے کا اعلان

سعودی وزارت خارجہ نے منگل کے روز اپنے بیان میں کہا کہ خطے میں حالیہ فوجی کشیدگی پر مملکت کو تشویش ہے اور وہ تمام فریقین سے تحمل، کشیدگی میں کمی اور سیاسی حل کے لیے مذاکرات کی حمایت کا مطالبہ کرتی ہے۔ بیان میں خاص طور پر پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کا ذکر کیا گیا۔

سعودی عرب نے کہا کہ خطے میں مزید عدم استحکام کسی کے مفاد میں نہیں اس لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سپورٹ کرتے ہوئے سیاسی حل کی طرف بڑھنا ضروری ہے۔

بیان میں آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کی آزادی کو معمول پر لانے پر بھی زور دیا گیا اور کہا گیا کہ 28 فروری سے پہلے کی صورتحال بحال کی جائے تاکہ بحری جہازوں کی محفوظ اور بلا رکاوٹ آمدورفت یقینی بنائی جا سکے۔

دوسری جانب خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا کہ اس کے دفاعی نظام نے 12 بیلسٹک میزائل، 3 کروز میزائل اور 4 ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ناکارہ بنا دیا تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

مزید پڑھیے: سعودی عرب کا پاکستانی محنت کشوں کو خراج تحسین، ہمیشہ کے بھائی قرار دے دیا

یہ واقعات اس وقت سامنے آئے جب امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی 7 ’فاسٹ بوٹس‘ کو نشانہ بنایا ہے جبکہ ایران نے سمندری راستہ جزوی طور پر بند کر رکھا ہے۔

پاکستان اس پورے عمل میں اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد نہ صرف امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہا ہے بلکہ گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کے انعقاد میں بھی سہولت فراہم کر چکا ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی مالی معاونت سے روپے کو سہارا، ایران جنگ کے دوران ڈالر کے مقابلے میں بہتری

مزید برآں، پیر کے روز پاکستان نے امریکی کارروائی کے دوران ضبط کیے گئے ایرانی جہاز کے 22 عملے کے افراد کی رہائی بھی ممکن بنائی جسے سفارتی حلقوں میں ایک اہم اعتماد سازی کا اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp