سعودی عرب میں حج کے لیے آنے والے پاکستانی عازمین کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں جدید کلینکس فعال کرنا شروع کر دیے ہیں۔
حکام کے مطابق مرحلہ وار منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 35 جدید کلینکس قائم کیے جا رہے ہیں، جہاں عازمینِ حج کو جدید طبی سہولیات میسر ہوں گی۔ ڈائریکٹر جنرل حج عبدالوہاب سومرو نے مکہ مکرمہ میں ایک کلینک کے دورے کے دوران بتایا کہ حکومت عازمین کی تمام طبی ضروریات پوری کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
یہ بھی پڑھیے: 15 سال سے کم عمر افراد پر حج ادائیگی سے متعلق عائد پابندی ختم
انہوں نے کہا کہ ‘تمام سہولیات یہاں موجود ہیں، امید ہے کہ عازمین حج کو کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور ان کی تمام طبی ضروریات یہیں پوری کی جائیں گی’۔
عبدالوہاب سومرو کے مطابق مکہ مکرمہ میں 35 ڈسپنسریاں جبکہ مدینہ منورہ کے مرکزیہ علاقے میں 2 ڈسپنسریاں قائم کی گئی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مرکزیہ میں کم ڈسپنسریاں اس لیے رکھی گئی ہیں کیونکہ عازمین حج وہاں سے دیگر مقامات کی جانب مسلسل نقل و حرکت میں رہتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہر کلینک میں 24 گھنٹے مریضوں کی سہولت کے لیے 3 سے 4 ایمبولینسز موجود ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) کے ذریعے اب تک 8 ہزار سے زائد اقسام کی ادویات مفت فراہم کی جا چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: حج پالیسی میں عمر کی حد سے متعلق اہم تبدیلی، کونسے عازمین متاثر ہوں گے؟
کلینکس میں جدید لیبارٹری سہولیات بھی دستیاب ہیں جہاں 28 اقسام کے تشخیصی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
وزارتِ مذہبی امور کے مطابق 18 اپریل سے شروع ہونے والے پری حج فلائٹ آپریشن کے بعد سے اب تک 20 ہزار سے زائد پاکستانی عازمین مدینہ منورہ پہنچ چکے ہیں، جبکہ رواں سال مجموعی طور پر ایک لاکھ 79 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی حج کی ادائیگی متوقع ہے۔
حج آپریشن کے دوران عازمین کی نقل و حمل، رہائش اور دیگر انتظامات کے ساتھ طبی سہولیات کی فراہمی بھی ایک اہم جزو ہے، جس کے لیے حکومت کی جانب سے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔














