بھارت نے پاکستانی کھلاڑیوں اور ٹیموں کو اپنے ہاں ہونے والے بین الاقوامی اور کثیرالملکی کھیلوں کے مقابلوں میں شرکت کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے، تاہم دوطرفہ کھیلوں، خصوصاً کرکٹ، پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بھارت کی وزارتِ کھیل نے بدھ کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ کھلاڑیوں اور کھیلوں کے حکام کے لیے ویزا عمل کو آسان بنایا جائے گا، جبکہ بین الاقوامی کھیلوں کی تنظیموں کے عہدیداروں کو ملٹی پل انٹری ویزے جاری کیے جائیں گے۔
وزارت کے مطابق، ’بین الاقوامی اور کثیرالملکی مقابلوں کے حوالے سے، چاہے وہ بھارت میں ہوں یا بیرونِ ملک، ہم بین الاقوامی کھیلوں کے اداروں کی پالیسیوں اور اپنے کھلاڑیوں کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت اب ایک قابلِ اعتماد عالمی اسپورٹس میزبان کے طور پر ابھر رہا ہے، اس لیے بین الاقوامی کھیلوں کے انعقاد کے تناظر میں یہ اقدامات اہم ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت 2030 کے کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی کے لیے تیاریاں کر رہا ہے، جبکہ اس نے 2036 اولمپکس اور 2038 ایشیائی کھیلوں کی میزبانی کے لیے بھی احمد آباد کے نام سے بولی دے رکھی ہے۔
بھارت اور پاکستان کے تعلقات گزشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی فوجی کشیدگی کے بعد مزید خراب ہوئے تھے، جو تقریباً مکمل جنگ کی صورتحال اختیار کر گئی تھی۔
دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان دوطرفہ کرکٹ سیریز طویل عرصے سے معطل ہے۔ پاکستان اور بھارت نے آخری مکمل سیریز 2012-13 میں کھیلی تھی، جس کے بعد دونوں ٹیمیں زیادہ تر نیوٹرل وینیوز پر ہی آمنے سامنے آتی ہیں۔
رواں برس ہونے والے ٹی20 کرکٹ ورلڈ کپ میں بھارت شریک میزبان تھا، تاہم پاکستان نے اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے، جن میں بھارت کے خلاف گروپ میچ بھی شامل تھا۔
بھارتی وزارتِ کھیل نے واضح کیا کہ ’جہاں تک ایک دوسرے کے ملک میں دوطرفہ کھیلوں کے مقابلوں کا تعلق ہے، بھارتی ٹیمیں پاکستان میں کسی مقابلے میں حصہ نہیں لیں گی اور نہ ہی پاکستانی ٹیموں کو بھارت میں دوطرفہ مقابلوں کی اجازت دی جائے گی۔‘














