امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششیں اس وقت شدید الجھن کا شکار ہو گئیں جب امریکی انتظامیہ کے بیانات میں بار بار تبدیلی دیکھی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستانی کوششوں سے امریکا اور ایران کے درمیان پیشرفت: آبنائے ہرمز میں ’پروجیکٹ فریڈم‘ عارضی طور پر معطل
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ بہت اچھی بات چیت کی ہے اور ممکن ہے کہ جلد کوئی معاہدہ طے پا جائے۔ تاہم اسی دوران امریکی حکام نے متضاد مؤقف اپناتے ہوئے فوجی کارروائیوں اور امن مذاکرات دونوں کا ذکر کیا۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے اور یہ ایک دفاعی کارروائی ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا کہ فوجی آپریشن مکمل ہو چکا ہے، تاہم ساتھ ہی کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی صورت میں ہی اہم سمندری راستہ دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس پالیسی تضاد میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب وائٹ ہاؤس کی مختلف بریفنگز میں کبھی جنگ بندی کے مؤثر ہونے اور کبھی ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکیوں کا ذکر کیا گیا۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ بدلتی صورتحال کے مطابق فیصلے کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جنگ بندی برقرار، ایران کو آبنائے ہرمز میں ٹیکس وصول نہیں کرنے دیں گے، امریکی وزیر جنگ
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ غیر واضح حکمت عملی اس لیے بھی پیدا ہو رہی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ صدر ٹرمپ نے ایک طرف فوجی کارروائی روکنے اور مذاکرات کا موقع دینے کی بات کی، جبکہ دوسری طرف ایران کو دوبارہ بمباری کی دھمکی بھی دی گئی، جس سے پالیسی مزید غیر واضح ہو گئی۔

امریکا نے اپنے اتحادی ممالک سے بھی آبنائے ہرمز میں بحری نگرانی میں مدد مانگی ہے، تاہم برطانیہ اور فرانس نے براہ راست فوجی کردار سے گریز کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ غیر واضح حکمت عملی امریکی پالیسی کو کمزور ظاہر کر رہی ہے اور ایران کے ساتھ کشیدگی کے حل کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔














