کولکتہ میں بی جے پی کی جیت کے بعد مسلم دکانوں پر مبینہ حملے، اسلامی تحریک بنگلہ دیش کی شدید مذمت

جمعرات 7 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی ریاست مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی انتخابی جیت کے بعد کولکتہ میں مسلمانوں کے کاروباری مراکز پر مبینہ حملوں کے خلاف اسلامی تحریک بنگلہ دیش نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

اسلامی تحریک بنگلہ دیش کے سیکریٹری جنرل حافظ مولانا یونس احمد نے 7 مئی کو جاری کردہ ایک بیان میں ان واقعات کو کسی بھی مہذب ریاست کے لیے ناقابلِ تصور قرار دیتے ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کی سخت مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی ریاست بہار میں پہلے مرحلے کے انتخابات کے دوران ریکارڈ ٹرن آؤٹ

بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انتخابی نتائج کے بعد بی جے پی کے کارکنوں اور حامیوں نے کولکتہ کے نیو مارکیٹ ایریا میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی اور منگل کی شام ساڑھے 6 بجے کے قریب بلڈوزروں کے ذریعے دکانوں کو مسمار کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔

متاثر ہونے والے تاجروں کی اکثریت اقلیتی مسلم برادری سے تعلق رکھتی ہے اور حملوں کے دوران مبینہ طور پر مذہبی نعرے بازی بھی کی گئی، جبکہ اس دوران کولکتہ پولیس کی بڑی نفری جائے وقوعہ پر موجود تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی انتخابات میں برازیلی خاتون نے سیما، سویٹی، سرسوتی، رشمی اور ولما کے نام سے 22 ووٹ ڈالے، اہم انکشاف

 یونس احمد نے کہا کہ ایسا سیاسی نظام یا جمہوری عمل جو اقلیتوں کو عدم تحفظ کا شکار کردے وہ جمہوریت نہیں کہلا سکتا۔

انہوں نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور بی جے پی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان واقعات کی سیاسی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری سدِباب کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp