چولستان کے تاریخی دراوڑ قلعے میں واقع سابق نواب بہاولپور صادق محمد خان عباسی پنجم کے سیکریٹریٹ اور رہائشی حصوں کی بحالی و مرمت کا 12 کروڑ روپے سے زائد لاگت کا منصوبہ مکمل کرلیا گیا۔
ڈان اخبار کے مطابق محکمہ آثارِ قدیمہ پنجاب نے 2022-23 میں شروع کیے گئے اس منصوبے کے تحت قلعے کے اندر موجود اہم تاریخی عمارتوں اور نواب کے سول تعمیراتی حصوں کے قریب فصیل کے ایک حصے کی بھی بحالی کی۔
یہ بھی پڑھیے: میکسیکو سٹی تیزی سے زمین میں دھنسنے لگا، تاریخی عمارتیں اور سڑکیں بھی متاثر
محکمہ آثارِ قدیمہ کے سب ڈویژنل افسر سجاد احمد نے بتایا کہ مرمت شدہ عمارتیں اب مکمل طور پر تیار ہیں اور جلد انہیں سیاحوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ تاریخی عمارتوں کی اصل طرزِ تعمیر کو برقرار رکھتے ہوئے جدید ٹائلز اور دیگر تعمیراتی مواد استعمال کیا گیا ہے تاکہ عمارتوں کی خوبصورتی اور مضبوطی دونوں برقرار رہیں۔
سجاد احمد کے مطابق محکمہ آثارِ قدیمہ اس سے قبل بھی دراوڑ قلعے کے مشرقی برجوں، فصیل، پلیٹ فارم، بارہ دری، مرکزی دروازے، گودام اور تاریخی مسجد کی بحالی کا منصوبہ مکمل کرچکا ہے، جس پر تقریباً 14 کروڑ 18 لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے۔
یہ بھی پپڑھیے: ہنزہ میں سلک روٹ فیسٹیول، روایتی کھانوں اور دستکاریوں کے اسٹالز توجہ کا مرکز
چولستان کے ریگستان میں بہاولپور سے تقریباً 70 کلومیٹر دور واقع دراوڑ قلعہ اپنی تاریخی اور تعمیراتی اہمیت کے باعث ملک بھر سے آنے والے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق اس قلعے کی ابتدائی تعمیر 9ویں صدی عیسوی میں جیسلمیر کے رائے ججہ بھاٹی نے کرائی تھی، جبکہ موجودہ شکل نواب بہاولپور صادق محمد خان اول نے 1733 میں تعمیر کروائی۔
محکمہ آثارِ قدیمہ نے قلعے کو 2005 میں محفوظ تاریخی ورثہ قرار دیا تھا، جبکہ 2016 میں اسے یونیسکو کی عارضی عالمی ثقافتی ورثہ فہرست میں بھی شامل کیا گیا۔











