این ایف سی ایوارڈ میں کمی سے دبئی اور لندن کی پراپرٹی مارکیٹ پر فرق پڑنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا، مفتاح اسماعیل

بدھ 20 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کم کریں گے تو دبئی اور لندن کی پراپرٹی مارکیٹ میں کمی آ جائےگی اس کے علاوہ اور کوئی فرق نہیں پڑےگا۔

’وی نیوز ایکسکلوسیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگرچہ 18ویں ترمیم ایک مثبت قدم تھا، لیکن اس میں اب بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

مزید پڑھیں: ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم: حکومت کن بڑی تبدیلیوں پر غور کر رہی ہے؟

مفتاح اسماعیل نے کہاکہ 18ویں ترمیم کے بعد دو تین خاندانوں کی بھلائی ہوئی ہے، پچھلے 20 سالوں میں آپ نے صوبوں کو بہت زیادہ پیسے دے دیے، اور اتنا پیسا مل رہا ہے کہ وہ خرچ ہی نہیں کر پاتے۔

انہوں نے کہاکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اختیارات صرف صوبائی سطح تک محدود نہ رہیں بلکہ انہیں مزید نچلی سطح یعنی ضلعی اور مقامی حکومتوں تک منتقل کیا جائے۔

انہوں نے کہاکہ 18ویں ترمیم ایک اہم جمہوری پیشرفت تھی جس کے ذریعے وفاق سے اختیارات اور وسائل صوبوں کو منتقل کیے گئے، جس سے مرکز کی اجارہ داری کم ہوئی۔

مفتاح اسماعیل نے کہاکہ عملی طور پر کئی شعبوں میں اب بھی غیر ضروری مرکزیت موجود ہے، جس کی وجہ سے انتظامی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

سابق وفاقی وزیر نے کہاکہ این ایف سی اور 18ویں ترمیم کا اصل مقصد اختیارات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم تھا، لیکن اس کے نامکمل نفاذ کی وجہ سے گورننس کے مسائل برقرار ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہاکہ اگر نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے تو فیصلہ سازی کو نچلی سطح تک لے جانا ہوگا تاکہ مقامی مسائل مقامی سطح پر حل ہو سکیں۔

’حکومت کے اخراجات زیادہ اور محصولات کم ہیں‘

آئندہ بجٹ اور ملکی معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان اس وقت ایک ایسے آئی ایم ایف پروگرام میں ہے جہاں حکومت کے اخراجات زیادہ اور محصولات کم ہیں، اس لیے حکومت ٹیکس بڑھانے پر مجبور ہوتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ حکومت نئے ٹیکس لگانے اور موجودہ لیویز میں اضافے کی کوشش کرے گی، جبکہ کچھ مالی بوجھ صوبوں پر بھی منتقل کیا جا رہا ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہاکہ جب حکومت اخراجات کم نہیں کرتی تو ٹیکس بڑھانا ناگزیر ہو جاتا ہے، اور یہی رجحان اس بجٹ میں بھی نظر آ رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر معاشی ترقی مطلوبہ سطح تک نہ پہنچے تو ٹیکس ہدف حاصل نہیں ہو پاتا، جس کا بوجھ بالآخر عام شہریوں پر پڑتا ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہاکہ پاکستان میں عام آدمی کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا، جس کے باعث وہ مزید ٹیکس برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہتا اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ گزشتہ برسوں میں پاکستانی عوام کی قوتِ خرید کم ہوئی ہے اور خوراک سمیت بنیادی اشیا کی کھپت بھی متاثر ہوئی ہے۔ ملک میں بنیادی معاشی اصلاحات کے بغیر بہتری ممکن نہیں۔

سابق وزیر خزانہ نے کہاکہ پاکستان میں مسلسل یہی رجحان رہا ہے کہ ہر بجٹ میں ٹیکس بڑھائے جاتے ہیں لیکن حکومت کے ڈھانچے اور اخراجات میں نمایاں کمی نہیں کی جاتی۔ اگر حکومت واقعی بہتری چاہتی ہے تو اسے اپنے اخراجات کم کرنا ہوں گے۔

انہوں نے برآمدات اور معاشی ترقی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں برآمدات میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ معاشی اشاریے بھی توقعات کے مطابق بہتر نہیں ہو رہے۔

’پیٹرولیم لیوی میں اضافہ جاری رہنے کا امکان ہے‘

مفتاح اسماعیل نے کہاکہ پیٹرولیم لیوی میں اضافہ جاری رہنے کا امکان ہے اور حکومت اس سے اہم ریونیو حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔

پراپرٹی سیکٹر کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ اس شعبے میں ریگولیشن اور اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ سرمایہ محفوظ رہے اور شفافیت بڑھے۔ پراپرٹی ٹرانسفر اور ویلتھ ٹیکس جیسے معاملات پر بھی غور ہونا چاہیے۔

’توانائی کے شعبے میں غیر متوازن منصوبہ بندی کے باعث مسائل پیدا ہوئے‘

سولر انرجی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ زیادہ تر نجی سرمایہ کاری ہے، تاہم توانائی کے شعبے میں غیر متوازن منصوبہ بندی کے باعث مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

انہوں نے موبائل اور آئی ٹی سیکٹر پر ٹیکسوں کے حوالے سے کہا کہ ان شعبوں میں بوجھ کم کرنے کے بجائے اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ دنیا بھر میں انڈسٹری کو فروغ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: کیا 28ویں آئینی ترمیم بجٹ سے قبل پیش ہونے جارہی ہے؟

’تنخواہ دار طبقے پر بہت زیادہ بوجھ ہے‘

تنخواہ دار طبقے کے حوالے سے مفتاح اسماعیل نے کہاکہ ان پر پہلے ہی نسبتاً زیادہ بوجھ ہے اور معمولی ریلیف کی باتیں کی جاتی ہیں، لیکن عملی طور پر بہت کم تبدیلی آتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی راہ پر گامزن، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کردیے، سڑکوں پر آنا مسائل کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے