مغربی آسٹریلیا کے گہرے سمندر میں سائنسدانوں نے ایک بڑی دریافت کرتے ہوئے 25 سال بعد پراسرار ’جائنٹ اسکوئیڈ‘ کی موجودگی کے شواہد تلاش کرلیے ہیں۔
نِنگالو کے ساحلی علاقوں میں پائے جانے والے اس افسانوی سمندری جاندار کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس کی جسامت ایک اسکول بس سے بھی بڑی ہوسکتی ہے جبکہ اس کی آنکھیں ایک بڑے پیزا کے برابر ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ میں لمبی ناک والی بھوت شارک کی نئی اور عجیب قسم دریافت
کرٹن یونیورسٹی کے محققین نے اس اسکوئیڈ کو براہ راست دیکھنے کے بجائے ’انوائرمنٹل ڈی این اے نامی جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔ سائنسدانوں نے ساڑھے 4 ہزار میٹر کی گہرائی سے سمندری پانی کے نمونے حاصل کیے جن کے تجزیے سے اس جانور کی جلد اور میوکس (لعاب) کے جینیاتی نشانات یا ’فنگر پرنٹس‘ برآمد ہوئے۔
یہ آثار کیپ رینج اور کلوٹس نامی سمندری کھائیوں کے چھ مختلف مقامات سے ملنے والے نمونوں میں پائے گئے۔

ڈبلیو اے میوزیم کی ڈاکٹر لیزا کرکنڈیل نے اس دریافت کو سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ای ڈی این اے پروٹوکول کے ذریعے مغربی آسٹریلیا کے ساحل پر جائنٹ اسکوئیڈ کی موجودگی کا یہ پہلا ریکارڈ ہے، جو مشرقی بحرِ ہند کے شمالی حصوں میں اس کی موجودگی کو ثابت کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہارورڈ ماہر فلکیات کا خدا کے وجود پر حیران کن مؤقف، سائنس اور مذہب قریب آ گئے؟
تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر جارجیا نیسٹر کا کہنا تھا کہ یہ سمندری کھائیاں ایک بھرپور ماحولیاتی نظام کی حامل ہیں جو شدید گہرائی کے باعث اب تک تحقیق دانوں کی نظروں سے اوجھل تھیں، تاہم اب اس دریافت نے سمندری حیات کے کئی نئے رازوں سے پردہ اٹھا دیا ہے۔














