جمعیت علمائے اسلام (ف) کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن اور دیگر تنازعات کے حوالے سے حکومت اور جمیعت کے درمیان گزشتہ 15 روز سے جاری کشیدگی میں کمی آئی ہے اور وزیراعلیٰ بلوچستان کی معذرت کے بعد احتجاج کو 20 مئی 2026 تک مؤخر کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مدارس بل ایکٹ بن چکا، گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے،اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا عبدالواسع نے بتایا کہ گزشتہ روز جمیعت کی جانب سے کی گئی تاریخی ہڑتال کے بعد وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی ایک وفد کے ہمراہ ان کی رہائش گاہ پر آئے اور حالیہ واقعات و حکومتی رویے پر معافی مانگی۔
مولانا عبدالواسع کے مطابق وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ مدارس کے خلاف کارروائیوں کے ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کے خلاف ایکشن لیا جائے گا اور آئندہ ایسی غلطی دوبارہ نہیں دہرائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: جے یو آئی حکومت بلوچستان سے نالاں کیوں؟
انہوں نے مزید کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کی روشنی میں ہم مدارس کی رجسٹریشن کے طریقہ کار کے لیے تیار ہیں، تاہم وزیراعلیٰ نے اسمبلی سے مدارس کے تحفظ کے حوالے سے بل پاس کروانے کے لیے کچھ مہلت طلب کی ہے اور درخواست کی ہے کہ احتجاج کو فی الحال مؤخر کیا جائے۔
جے یو آئی کے رہنما نے واضح کیا کہ سیاست میں کوئی بھی چیز حرفِ آخر نہیں ہوتی بلکہ بات چیت کے ذریعے ہی معاملات آگے بڑھتے ہیں، اسی تناظر میں ہم نے اپنا احتجاج 20 مئی تک مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔














