جنگ بندی کے باوجود کشیدگی، تیل کی قیمتیں 40 فیصد تک بڑھ گئیں

جمعہ 8 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں جھڑپوں کے بعد عالمی تیل مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

دوسری جانب عالمی اسٹاک مارکیٹس بھی مندی کا شکار ہو گئی ہیں، بین الاقوامی بینچ مارک برینٹ کروڈ آئل کی قیمت جمعرات کے روز ایک غیر مستحکم تجارتی سیشن کے دوران 7.5 فیصد تک بڑھ گئی، تاہم ایشیائی مارکیٹس کے کھلنے پر اس میں کچھ کمی دیکھی گئی۔

جمعہ کی صبح 03:00 جی ایم ٹی پر برینٹ کی قیمت 101.12 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی، جو دن کی بلند ترین سطح 103.70 ڈالر سے کم تھی۔

یہ بھی پڑھیں: خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، پاکستان میں پیٹرول کتنا مہنگا ہونے کا امکان ہے؟

یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جو دنیا کی تقریباً 5ویں حصے کی تیل و گیس ترسیل کا اہم راستہ ہے۔

یہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان 7 اپریل کو عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی افواج نے اس وقت جوابی کارروائی کی جب 3 امریکی جنگی بحری جہازوں پر ایرانی میزائلوں، ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں سے حملہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: جنگِ ایران کے باعث خام تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں

دوسری جانب ایران کے کمانڈ سینٹر خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ایرانی آئل ٹینکر اور دیگر جہازوں کو نشانہ بنایا۔

ایران نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں میں جزیرہ قشم سمیت شہری علاقوں کو بھی نقصان پہنچا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان جھڑپوں کو کم اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے، جبکہ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق صورتحال دوبارہ معمول پر آ گئی ہے۔

مزید پڑھیں: پیٹرول کی قیمتیں کم ہونا خواب ہی رہا، پاکستان نے روسی خام تیل کی درآمد معطل کردی

ادھر آبنائے ہرمز میں شپنگ سرگرمیاں فروری کے آخر سے تقریباً معطل ہیں، کیونکہ ایرانی حملوں کے خدشات کے باعث بڑے آئل ٹینکرز کی آمد و رفت خطرے میں ہے۔

عالمی سطح پر برینٹ آئل کی قیمتیں جنگ سے قبل کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد زیادہ ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے یومیہ پیداوار میں اندازاً 1.45 کروڑ بیرل کی کمی بھی بتائی جا رہی ہے۔

دوسری جانب ایشیائی اسٹاک مارکیٹس جمعہ کے روز مندی کا شکار رہیں، جہاں جاپان کا نکی 225، جنوبی کوریا کا کوسپی اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 1 فیصد سے زائد گر گئے۔

وال اسٹریٹ پر بھی ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 0.4 فیصد کمی دیکھی گئی، اگرچہ یہ ایک روز قبل اپنی ریکارڈ بلند سطح پر پہنچا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp