بنگلہ دیش: جہانگیر نگر یونیورسٹی میں طالبہ پر حملے کے خلاف ہزاروں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے

جمعرات 14 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کی جہانگیر نگر یونیورسٹی میں ایک طالبہ سے مبینہ زیادتی کی کوشش کے خلاف طلبہ نے رات گئے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے۔ مظاہرین نے یونیورسٹی انتظامیہ پر طلبہ، خصوصاً طالبات، کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

احتجاج اس وقت شروع ہوا جب اطلاعات سامنے آئیں کہ منگل کی رات ایک طالبہ کو یونیورسٹی کی سڑک سے زبردستی قریبی جھاڑیوں میں گھسیٹ کر مبینہ زیادتی کی کوشش کی گئی۔ بعد ازاں دیگر طلبہ نے متاثرہ طالبہ کو بچایا اور طبی امداد کے لیے یونیورسٹی میڈیکل سینٹر منتقل کیا۔

رات تقریباً ساڑھے 10 بجے یونیورسٹی کے ’ٹارزن ایریا‘ میں ایک ہزار سے زائد طلبہ، خصوصاً طالبات، احتجاجی ریلی میں شریک ہوئیں۔ مظاہرین مختلف رہائشی ہالز سے ہوتے ہوئے یونیورسٹی پروکٹر کے دفتر کے باہر جمع ہوئے۔ اس سے قبل شام کے وقت ایک اور احتجاجی مارچ کیمپس کے ’بٹ تلا‘ علاقے سے شروع ہوا تھا۔

مظاہرین نے متاثرہ طالبہ کے لیے انصاف اور کیمپس میں خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے حق میں نعرے بازی کی۔ طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سیکیورٹی کے حوالے سے مسلسل غفلت برتی جا رہی ہے۔

احتجاج کرنے والے طلبہ نے انتظامیہ کے سامنے متعدد مطالبات رکھے، جن میں ملزم کی 24 گھنٹوں کے اندر گرفتاری، پروکٹر پروفیسر اے کے ایم رشید الاسلام کے استعفے اور مبینہ غفلت پر پروکٹوریل باڈی کو تحلیل کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔

طلبہ نے طالبات کو ہراسانی سے بچانے کے لیے مؤثر ’کوئیک رسپانس ٹیم‘ کے قیام اور کیمپس میں خواتین سیکیورٹی اہلکاروں کی بھرتی کا بھی مطالبہ کیا۔

واقعے کے بعد بنگلہ دیش میں تعلیمی اداروں میں خواتین کے تحفظ سے متعلق خدشات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔ طلبہ نے خبردار کیا ہے کہ ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp