وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی صورتحال مجموعی طور پر درست سمت میں جا رہی ہے، اور انہیں امید ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا انتظامی بورڈ آج پاکستان کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی آئندہ قسط کی منظوری دے دے گا۔
مزید پڑھیں:آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بجلی سبسڈی کی اجازت دے دی
انہوں نے قومی اسمبلی کی مالیاتی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی کشیدگی اور بیرونی دباؤ کے باوجود معیشت کے اہم اشاریے مستحکم ہیں۔ برآمدات میں ماہانہ اور سالانہ دونوں بنیادوں پر اضافہ ہوا ہے جبکہ ترسیلات زر اور معلوماتی ٹیکنالوجی کی برآمدات بھی بڑھ رہی ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے گورنر نے بتایا کہ گزشتہ 3 برس میں مارکیٹ سے 27 ارب ڈالر خریدے گئے اور حال ہی میں 5 ارب ڈالر واپس کیے گئے ہیں، جبکہ توقع ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر جون 2026 تک 17 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت محتاط مالیاتی پالیسی، بیرونی کھاتے کی بہتری اور اصلاحات کے ذریعے معاشی استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ چاہتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ترسیلات زر میں اضافہ ہو رہا ہے، بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں تک رسائی بہتر ہو رہی ہے اور آئندہ دنوں میں بانڈز کے اجرا کے عمل میں پیشرفت متوقع ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا بورڈ آج واشنگٹن میں پاکستان کے لیے نئی قسط پر غور کرے گا اور امید ہے کہ منظوری میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔
وزیر خزانہ کے مطابق برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، مالی سال کے دوران معاشی ترقی کی شرح 3 اعشاریہ 7 سے 4 فیصد تک رہنے کی توقع ہے، جبکہ مہنگائی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے تاہم اس پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔
مزید پڑھیں:آئی ایم ایف کی وارننگ، حکومت نے پیٹرول کا کروز میزائل داغ دیا، حقائق کیوں چھپائے گئے؟
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی صورتحال کے باوجود پاکستان نے غیر ملکی سرمایہ کاری اور مالی ذرائع تک رسائی میں پیشرفت کی ہے، جبکہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات بھی جاری ہیں۔













