ڈیٹا سینٹرز کی وجہ سے بجلی  بلوں میں اضافہ، اسٹینفورڈ پروفیسر نے اے آئی کمپنیوں کو عوامی ردعمل سے خبردار کردیا

جمعہ 8 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں مصنوعی ذہانت(اے آئی)  کے بڑھتے ہوئے ڈھانچے اور ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے خلاف عوامی غصے میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جہاں ایک حالیہ سروے کے مطابق 43 فیصد امریکیوں کا ماننا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کے بے پناہ توانائی استعمال کرنے سے ان کے بجلی کے بل بڑھ رہے ہیں۔

 اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر انجنی میدھا نے، جو اے آئی انفراسٹرکچر کے ماہر مانے جاتے ہیں، متنبہ کیا ہے کہ مقامی کمیونٹیز کی جانب سے ان منصوبوں کی مخالفت محض ترقی کی مخالفت نہیں بلکہ ڈیٹا سینٹرز کے اثرات اور مقاصد کے حوالے سے شفافیت کی کمی کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بجلی کی بچت: میٹا کا اپنے ڈیٹا سینٹرز شمسی توانائی سے چلانے کا منصوبہ

پروفیسر میدھا کا کہنا ہے کہ لوگ ان منصوبوں کے گرد گھومنے والے پراسرار ماحول سے نالاں ہیں، کیونکہ بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، ماحولیاتی بگاڑ، شور کی آلودگی اور معیارِ زندگی میں کمی جیسے خدشات کے انہیں براہِ راست جوابات نہیں مل رہے۔

انہوں نے ایک پوڈ کاسٹ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب کمپنیاں یہ بتانے میں ناکام رہتی ہیں کہ ڈیٹا سینٹرز سے عوام کو کیا فائدہ پہنچے گا یا ان کے منفی اثرات کو کیسے کم کیا جائے گا، تو لوگ بدترین صورتحال کا تصور کرتے ہوئے ان کے خلاف متحد ہوجاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز جدید جنگ کا نیا محاذ بن گئے

دوسری جانب سیاسی سطح پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے، جہاں سینیٹر برنی سینڈرز اور الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے وفاقی سطح پر نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر پابندی کی تجویز دی ہے، جبکہ ریاست مین سمیت دیگر کئی ریاستوں میں بھی اسی طرح کے قوانین زیرِ غور ہیں۔ پ

روفیسر میدھا نے کسی سوچے سمجھے منصوبے کے بغیر تیز رفتار توسیع اور سرے سے ترقی روک دینے کے حوالے سے مشورہ دیا ہے کہ انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ عوام کے خدشات کو سننا ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیٹا سینٹرز میں بجلی کی بے تحاشا کھپت، اوپن اے آئی نے حل ڈھونڈ لیا

انہوں نے تجویز دی ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کے لیے ’نیوٹریشنل لیبل‘ جیسا ایک معیار مقرر کیا جانا چاہیے، جس میں ان کے توانائی کے استعمال اور ماحول و معاشرے پر پڑنے والے اثرات کی واضح تفصیلات درج ہوں، تاکہ کسی بھی منصوبے کو شروع کرنے سے پہلے عوام کا بھرپور اعتماد حاصل کیا جاسکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مالی مسائل حل نہ ہوئے تو بی پی ایل منعقد نہیں کریں گے، تمیم اقبال

واٹس ایپ اب کاروباری اداروں سے صارفین کے جوابات پر بھی فیس وصول کرے گا

پاکستانی کوہ پیما عاصمہ مشتاق اسپینٹک سر کرنے کے بعد انتقال کرگئیں

بی این پی رہنما مرزا فخرالاسلام عالمگیر بنگلہ دیش کے نئے صدر منتخب

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 27 پیسے اور ڈیزل ایک روپے 64 پیسے مہنگا

ویڈیو

ڈیل یا ڈھیل، حکومت نے درخواست واپس لے لی، کپتان اسپتال منتقل، اگلی منزل بنی گالہ، بلاول کی پھرتیاں

شاہی خاندان سے تعلقات بہتر ہوگئے، شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کا 6 سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپسی کا فیصلہ

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان ہوں گے، صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن متفق

کالم / تجزیہ

فیصلے کی تاریخ اور تاریخ کا فیصلہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟