ماؤں کو صرف خراجِ تحسین پیش کرنا آسان ہے، بات تب بنے گی جب ہم اُس وقت ان کے ساتھ کھڑے ہوں جب انہیں ہماری سب سے زیادہ ضرورت ہو۔
ہر سال ماؤں کے عالمی دن پر ہماری سوشل میڈیا ٹائم لائنز محبت کے جذبات، خوبصورت پیغامات، گھروں میں دعوتوں کی تصاویر اور ماؤں کی تعریف و تحسین کے الفاظ سے بھر جاتی ہیں، مگر ہر سال یہ دن گزر جانے کے بعد بہت سی ماؤں کے لیے اس جشن کے بعد چھا جانے والی گہری خاموشی ناقابلِ برداشت ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ماؤں کا عالمی دن، شہریوں کا خراجِ تحسین
اس سال ہم چاہتے ہیں کہ ماؤں سے متعلق یہ گفتگو مزید کچھ دیر جاری رہے، کیونکہ پاکستان کی ماؤں کے لیے صرف ایک دن کی توجہ اور محبت کافی نہیں ہے۔ ان کا حق ہے کہ ان کا کردار تسلیم کیا جائے، ان کا ساتھ دیا جائے، اور وہ مئی کے اس مخصوص دن کے بعد تنہائی سے لڑنے کے لیے اکیلی نہ رہ جائیں۔
ایک حقیقت جس سے اب نظریں نہیں چرائی جاسکتیں
پاکستان میں اندازاً 40 فیصد نئی ماؤں کو زچگی کے بعد ڈپریشن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواتین کی اس کیفیت میں تعلیم، آمدنی یا پس منظر کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہے۔ ڈپریشن خاموشی سے حملہ آور ہوتا ہے، اکثر تھکن یا حساسیت کے پردے میں چھپا ہوتا ہے، اور ماؤں کو بروقت مدد اور ہمدردی نہ ملنے کی صورت میں مزید سنگین ہوتا چلا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے‘۔ ماؤں کا عالمی دن
اس کے باوجود زیادہ تر پاکستانی ماؤں کے لیے زچگی کے بعد ذہنی صحت کا یہ سفر تنہائی کا سفر بن جاتا ہے۔ ڈپریشن کے علاج سے جُڑا سماجی بدنامی کا ڈر، پیشہ ورانہ مدد اور علاج کے وسائل کی کمی یا عدم رسائی، اور معاشرے کی یہ بے جا توقع کہ ماں کو ’خود ہی اپنے آپ کو سنبھالنا چاہیے‘ وہ وجوہات ہیں جو لاکھوں خواتین کو اُس ضروری دیکھ بھال سے محروم کر دیتی ہیں، جس کی وہ حقدار ہیں۔
خاموشی سے ایسے نامساعد حالات کا سامنا کرنے والی ہر ماں کے پیچھے ایک خاندان موجود ہوتا ہے، جسے علم نہیں ہوتا کہ اس کی مدد کیسے کی جائے۔ تبدیلی کی شروعات آگاہی سے ہوتی ہے۔
اس نے سب کا ہاتھ تھاما، اب ہماری باری ہے
ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صرف ماں کا کام ہے کہ وہ سارے خاندان کو سہارا دے۔ وہ ہر فکر کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہے، سب کی پریشانیوں میں مدد کو آتی ہے، اور خاموشی اور مستقل مزاجی سے بغیر کچھ کہے سب کچھ سنبھالتی ہے، مگر سہارا ایک طرفہ عمل نہیں ہوتا اور جو مائیں سب کی مدد کرتی ہیں، اکثر وہی کسی سے اپنے لیے سہارا اور مدد نہیں مانگتیں۔
یہ بھی پڑھیں: ماؤں کا عالمی دن: مشکلوں کی دھوپ میں محبتوں کا سائباں ۔۔۔ ماں
ماؤں کا ساتھ نہ دینے کا اثر صرف ان پر نہیں پڑتا، بلکہ ان بچوں پر بھی ہوتا ہے جن کی وہ پرورش کرتی ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ زچگی کے بعد ماؤں کو لاحق ہونے والا ڈپریشن بچوں میں برسوں بعد جذباتی اور رویہ جاتی مشکلات کا پیش خیمہ بن سکتا ہے، اور پوسٹ پارٹم ڈپریشن سے جڑی ماں اور بچے کے تعلق میں کمزوری زندگی کے پہلے ہی سال میں نشوونما میں تاخیر کا سبب بنتی ہے۔ جو بات ماں کی خاموش جدوجہد سے شروع ہوتی ہے، وہ خاموش نہیں رہتی۔ وہ بچے کی نشوونما میں، خاندان کے جذبات میں، اور آنے والی نسل میں ظاہر ہوتی ہے۔
صرف الفاظ کافی نہیں، عملی مدد ضروری ہے
عمل کے بغیر آگاہی کافی نہیں۔ ایسی گفتگو جو لوگوں کو جذباتی طور پر متاثر کرے، اسے عملی طور پر بھی اُن کو بہتر سمجھ بوجھ پیدا کرنے، زیادہ ہمدردی کرنے اور خواتین کے لیے نہایت ضروری مدد کو ان کی رسائی میں لانے کی کوششوں پر آمادہ کرنا چاہیے۔
پاکستان کی مائیں زیادہ کچھ نہیں مانگ رہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ ان کا کردار تسلیم کیا جائے۔ انہیں سنا جائے۔ وہ جان سکیں کہ جب بوجھ حد سے بڑھ جائے تو ان کے پاس رجوع کرنے کے لیے کوئی جگہ موجود ہے، یا کوئی ایسا شخص ہے جو ان کے ساتھ مل کر اس بوجھ کو اٹھانے کے لیے تیار ہو۔ اس میں ہم، آپ، حکومتی ادارے، سول سوسائٹی اور کارپوریٹ سیکٹر بھی شامل ہے، جو عموماً خواتین کی ترقی اور کامیابی کے لیے مختلف اقدامات اٹھاتا رہتا ہے۔ وہ اپنے وسائل بروئے کار لا کر اس سلسلے میں ایک نتیجہ خیز تبدیلی لا سکتا ہے۔
اس مدرز ڈے، آئیے ہم سب وہ شخص یا ادارہ بن کر دکھائیں۔ ماں اپنے پیاروں سے کبھی رشتہ نہیں توڑتی۔ اس مدرز ڈے، آئیے ہم بھی اس سے اپنا رشتہ نہ توڑیں۔














