پینٹاگون نے 80 برس پرانے راز افشا کردیے، اڑن طشتریوں سے متعلق خفیہ فائلیں بالاخر جاری

جمعہ 8 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے جمعہ کو یو ایف اوز (نامعلوم اڑنے والی اشیا) المعروف اڑن طشتری سے متعلق پہلے سے خفیہ رکھی گئی دستاویزات کا پہلا مجموعہ جاری کر دیا جن میں بعض رپورٹس سنہ 1940 کی دہائی تک پرانی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈرونز یا اڑن طشتریاں، نیو جرسی کی فضا میں کون سی پراسرار چیزیں اڑ رہی ہیں؟

امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ۔

امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے بیان میں کہا ہے کہ یہ فائلیں برسوں سے خفیہ درجہ بندی میں چھپی رہیں جس کی وجہ سے عوام میں مختلف قیاس آرائیاں جنم لیتی رہیں تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی عوام خود یہ معلومات دیکھ سکیں۔

امریکی محکمہ جنگ کی ویب سائٹ پر 160 سے زائد فائلیں جاری کی گئی ہیں۔ پینٹاگون یو ایف اوز کو باضابطہ طور پر ’نامعلوم غیر معمولی مظاہر‘ (یو اے پیز) قرار دیتا ہے۔

جاری کی گئی ایک فائل جو دسمبر 1947 کی ہے میں ’اڑنے والی ڈِسکس‘ سے متعلق رپورٹس شامل ہیں جبکہ سنہ 1948 کی ایک انتہائی خفیہ فضائیہ انٹیلی جنس رپورٹ میں ’نامعلوم طیاروں‘ اور ’فلائنگ ساسرز‘ کو دیکھے جانے کے دعوؤں کا ذکر موجود ہے۔

ایک اور فائل میں سنہ 2023 کے ایک واقعے کی تفصیل دی گئی ہے جس میں وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 3 مختلف اہلکاروں نے آسمان پر نارنجی رنگ کے گول دائروں کو دیکھنے کا دعویٰ کیا جن سے چھوٹے سرخ رنگ کے گولے نکلتے دکھائی دیے۔

مزید پڑھیے: اڑن طشتری والی مخلوق کا تعلق کس سیارے سے ہے، انوکھا نقطہ نظر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری میں وفاقی اداروں کو ہدایت دی تھی کہ یو ایف اوز اور خلائی مخلوق سے متعلق سرکاری فائلوں کی شناخت کرکے انہیں عوام کے لیے جاری کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کی غیر معمولی دلچسپی کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا۔

ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ سابق صدر براک اوباما نے ایک پوڈکاسٹ میں ماورائے زمین زندگی سے متعلق ’خفیہ معلومات‘ کا ذکر کیا تھا۔ اوباما نے اس گفتگو میں کہا تھا کہ وہ حقیقی ہیں لیکن میں نے انہیں نہیں دیکھا اور انہیں ایریا 51 میں نہیں رکھا گیا۔

تاہم اب تک زمین سے باہر ذہین مخلوق کے وجود کا کوئی سائنسی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

مزید پڑھیں: جارج ڈبلیو بش اور خلائی مخلوق کا قصہ، نئے انکشافات سامنے آگئے

حالیہ برسوں میں یو ایف اوز میں دلچسپی اس وقت دوبارہ بڑھی جب امریکی حکومت نے کئی پراسرار فضائی مشاہدات کی تحقیقات شروع کیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ شاید حریف ممالک جدید خفیہ ٹیکنالوجی آزما رہے ہوں۔

مارچ 2024 میں پینٹاگون نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ یو اے پیز کے خلائی مخلوق کی ٹیکنالوجی ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا جبکہ کئی مشتبہ واقعات بعد میں موسمی غباروں، جاسوس طیاروں، سیٹلائٹس یا دیگر معمول کی سرگرمیوں پر مشتمل نکلے۔

نتیجہ کیا نکلا؟

تاہم جاری کیے گئے دستاویزات میں اب تک ایسی کوئی ٹھوس یا حتمی شہادت سامنے نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ یو ایف اوز دراصل خلائی مخلوق کی گاڑیاں یا زمین سے باہر ذہین حیات کا ثبوت ہیں۔ بیشتر رپورٹس میں صرف نامعلوم یا غیر واضح فضائی مظاہر کا ذکر کیا گیا ہے جن کی مکمل وضاحت نہیں ہو سکی۔

پینٹاگون نے اس سے قبل بھی اپنی تحقیقات میں کہا تھا کہ کئی مشتبہ واقعات بعد میں موسمی غباروں، جاسوس طیاروں، سیٹلائٹس یا دیگر عام فضائی سرگرمیوں سے متعلق نکلے۔ حکام کے مطابق اب تک ایسا کوئی ناقابل تردید ثبوت نہیں ملا جو ماورائے زمین مخلوق کے وجود کی تصدیق کرے۔

یہ بھی پڑھیے: ایلون مسک نے خلائی مخلوق کے وجود کے حوالے سے اپنی رائے بتادی

اگرچہ نئی فائلوں کے اجرا نے یو ایف اوز سے متعلق دلچسپی اور بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے تاہم امریکی حکومت کا مؤقف اب بھی یہی ہے کہ ان واقعات میں سے بیشتر کی زمینی یا تکنیکی وضاحت موجود ہو سکتی ہے جبکہ بعض کیسز اب بھی تحقیقات کے مراحل میں ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp