فضائی جنگ میں جنگی طیارہ مار گرائے جانے کی تصدیق کیسے ہوتی ہے؟

ہفتہ 9 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کے دو سینیئر فضائی افسران کے دو متضاد دعوے سامنے آئے ہیں، ایک کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال بھارت نے 5 پاکستانی طیارے گرائے جبکہ دوسرے نے کہا کہ 13 لیکن ثبوت ندارد۔

6 سے 10 مئی 4 روزہ پاک بھارت فوجی کشیدگی کی پہلی رات ایک بڑے فضائی معرکے میں پاک فضائیہ نے بھارت کے 7 جدید جنگی جہاز اور ایک ڈرون مار گرائے تھے جن میں 4 رفال طیارے بھی شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیے: عراق میں امریکی طیارہ گر کر تباہ، 6 اہلکار ہلاک ، سینٹکام کی تصدیق

گزشتہ ایک برس میں بھارت کی یہ بھرپور کوشش رہی کہ کسی طرح سے اس شرمندگی اور ندامت سے نجات حاصل کی جائے، لیکن ایسا ممکن نہیں ہو پایا۔ گزشتہ برس بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف انیل چوہان نے سنگاپور میں ایک انٹرویو میں بتایا کہ بھارت کے طیارے گرے تھے لیکن تعداد سے فرق نہیں پڑتا۔ اُنہوں نے بھارتی فوج کے 2 دن مفلوج رہنے کا اعتراف بھی کیا تھا۔

لیکن گزشتہ برس اگست میں بھارتی ایئر چیف امرپریت سنگھ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم نے بھی پاکستان کے 5 طیارے گرائے تھے۔

اور اب گزشتہ روز ایئر مارشل اے کے بھارتی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے 13 پاکستانی طیارے گرانے کا دعوٰی کیا۔

لیکن کیا بغیر کسی ثبوت کے طیارہ گرائے جانا کا دعوٰی کیا جا سکتا ہے یا یہ سہولت صرف بھارت کو حاصل ہے کہ وہ کسی بھی تعداد کا دعوٰی کر کے اُسے سچ ماننے پر اصرار کرے؟

یہ بھی پڑھیے: ’خرابی رافیل طیاروں میں نہیں بلکہ انہیں اڑانے والے بھارتی پائلٹس میں تھی‘، فرانسیسی کمانڈر

جب کوئی جنگی طیارہ گرتا ہے تو اُس کے گرنے کی تصدیق کیسے ہوتی ہے، اس کو ثابت کیسے کیا جاتا ہے؟ جدید دور کی فضائی جنگ صرف میزائلوں اور طیاروں کی جنگ نہیں رہی بلکہ یہ معلومات، ٹیکنالوجی، ریڈار، سیٹلائٹ اور انٹیلیجنس کی جنگ بھی بن چکی ہے۔ کسی بھی جنگی طیارے کے مار گرائے جانے کا دعویٰ آج کل صرف ایک پریس ریلیز یا عسکری بیان سے ثابت نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کے لیے کئی تکنیکی، وژوئل اور انٹیلیجنس شواہد درکار ہوتے ہیں۔

ملبہ سب سے بڑا ثبوت

فضائی جنگ میں سب سے مضبوط ثبوت طیارے کا ملبہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر کسی علاقے سے جہاز کے انجن، وِنگ، ایواونکس یا فیوسلیج کے ٹکڑے مل جائیں تو ماہرین آسانی سے شناخت کر لیتے ہیں کہ یہ کس طیارے کے حصے ہیں۔ جدید جنگی طیاروں جیسے رفال یا ایف 16 کے مختلف حصوں پر مخصوص مینوفیکچرنگ کوڈز اور سیریل نمبر درج ہوتے ہیں جو ان کی شناخت ممکن بنا دیتے ہیں۔کئی مرتبہ میزائل کے اثرات یا دھماکے کے نشانات سے یہ بھی اندازہ لگا لیا جاتا ہے کہ طیارہ تکنیکی خرابی سے گرا یا دشمن کے حملے کا شکار ہوا۔

پائلٹ کی موجودگی یا گرفتاری

اگر پائلٹ ایجیکٹ کر جائے، پیراشوٹ کے ذریعے زمین پر اتر آئے یا گرفتار ہو جائے تو یہ واقعہ طیارے کے تباہ ہونے کی مضبوط دلیل سمجھا جاتا ہے۔ بعض اوقات کسی ملک کی فوج خود پائلٹ کی ہلاکت یا بازیابی کا اعلان کرتی ہے، جبکہ بعض اوقات سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز اس دعوے کو مزید تقویت دیتی ہیں۔

ریڈار اور ایواکس کی اہمیت

جدید فضائی افواج زمین پر موجود ریڈار سسٹمز اور ایواکس طیاروں کے ذریعے ہر لمحہ فضائی نقل و حرکت مانیٹر کرتی ہیں۔ بوئنگ ای تھری سینٹری جیسے طیارے سینکڑوں کلومیٹر دور تک فضائی صورتحال کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔اگر کوئی جنگی جہاز اچانک ریڈار سے غائب ہو جائے، اس کی رفتار اور اونچائی غیر معمولی طور پر کم ہو جائے یا میزائل امپیکٹ کے آثار نظر آئیں تو عسکری ماہرین اسے ممکنہ شوٹ ڈاؤن قرار دیتے ہیں۔

اوپن سورس انٹیلی جینس اور سیٹلائٹ تصاویر کا کردار

حالیہ برسوں میں اوپن سورس انٹیلی جینس نے جنگی دعوؤں کی تصدیق میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کمرشل سیٹلائٹ ،ڈرون فوٹیج اور مقامی افراد کی ویڈیوز کو ملا کر کریش سائٹ کی تصدیق کی جاتی ہے۔ ماہرین ٹیرین، شیڈوز، موسمیاتی تغیر اور میٹا ڈیٹا کی مدد سے یہ جانچتے ہیں کہ ویڈیو حقیقی ہے یا نہیں۔

طیارہ ساز کمپنیاں کیسے جانتی ہیں کہ اُن کا طیارہ تباہ ہوا؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ جنگی طیارہ بنانے والی کمپنیاں بھی اکثر اندازہ لگا لیتی ہیں کہ ان کا جہاز تباہ ہوا ہے، چاہے حکومت فوری طور پر اس کی تصدیق نہ کرے۔امریکا کی لاک ہیڈ مارٹن اور اور فرانس کی ڈسالٹ ایوی ایشن جیسی کمپنیاں اپنے تیار کردہ طیاروں کے مینٹینینس سسٹم، سافٹ وئیر لاگز اور ٹیکنیکل ڈائیگناسٹکس کے ذریعے جہازون کے فلیٹ  کی صورتحال پر نظر رکھتی ہیں۔

ڈیٹا اور مشن لاگز

جدید جنگی طیارے مسلسل مختلف قسم کا ڈیٹا ریکارڈ کرتے رہتے ہیں۔ ان میں انجن ٹیلی میٹری، فالٹ کوڈز، مشن لاگز، ایوی اونکس پرفارمینس وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔اگر کسی جہاز کا ڈیٹا اچانک بند ہو جائے یا مشن ڈی بریفنگ مکمل نہ ہو سکے تو طیارہ ساز کمپنی کو شبہ ہو جاتا ہے کہ طیارہ تباہ ہو چکا ہے۔

سیریل نمبرز سے شناخت

طیارے کے چھوٹے سے چھوٹے پرزے پر بھی مینوفیکچرنگ کوڈز موجود ہوتا ہے۔ اگر کریش سائٹ سے کوئی حصہ مل جائے تو کمپنی باآسانی معلوم کر سکتی ہے کہ وہ کس ایئر کرافٹ کا ٹکڑا تھا اور کس بیچ سے تعلق رکھتا تھا۔

اتحادی انٹیلیجنس کا کردار

بڑی دفاعی کمپنیاں اکثر اپنی حکومتوں اور فضائی افواج کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتی ہیں۔ اگر کسی ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی کے پاس، سیٹلائٹ ایمجری، ریڈار ٹریکس، کمیونیکیشن انٹرسیپٹس اور الیکٹرانک وارفیئر ڈیٹا موجود ہو تو وہ معلومات بالواسطہ طور پر مینوفیکچرر تک پہنچ سکتی ہیں۔

دعوے اور حقیقت میں فرق

فضائی جنگ میں فوری دعوے اکثر سیاسی، عسکری اور نفسیاتی جنگ کا حصہ ہوتے ہیں۔ کئی بار ایک فریق متعدد طیارے مار گرانے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن بعد میں آزاد ذرائع صرف چند کی تصدیق کرتے ہیں۔ اسی لیے عالمی سطح پر’کنفرمڈ کِل‘ کی اصطلاح صرف اُس وقت استعمال کی جاتی ہے جب ریڈار، ملبے، ویڈیوز، پائلٹ یا انٹیلیجنس سمیت متعدد شواہد ایک دوسرے کی تائید کریں۔

پاکستانی اور بھارتی دعوؤں میں فرق

بھارت کے رفال طیارے گرائے جانے کے ویڈیو ثبوت ملبے کی صورت میں موجود ہیں، رفال طیارے بنانے والی کمپنی تصدیق کر چُکی ہے، صدر ٹرمپ کئی بار بھارتی طیاروں کی تباہی کے بارے میں بات کر چکے ہیں جبکہ اس کے برعکس بھارت کے پاکستانی طیارے تباہ کرنے کے دعوے محض دعوے ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp