اگلے روز ایک سنجیدہ پڑھے لکھے دوست آئے۔ وہ معروف معنوں میں دانشور نہیں، لکھتے بھی نہیں مگر پختہ سوچ کے حامل ہیں، گہرائی میں جا کر چیزوں کو دیکھتے ہیں۔ انہیں چائے پیش کی، گپ شپ ہوتی رہی۔ اچانک کہنے لگے کہ ہمارے ہاں ایک ایسی غربت لاحق ہوچکی ہے جسے ہم نے ابھی تک پہچانا نہیں۔
ان کی بات سن کر میں نے سوچا کہ شائد سیاسی، معاشی یا پھر گھریلو حوالے سے بات کر رہے ہیں۔ سادگی سے پوچھ لیا، کس چیز کی غربت؟ مسکرائے، بولے، توجہ کی غربت۔ پھر کہنے لگے، آج میرا چھوٹا بھتیجا میرے گھر آیا تھا، 3 برس کا بچہ ہے۔ میری گود میں بیٹھا کافی دیر تک باتیں کرتا رہا، کہانی سناتا رہا اور میں اپنا فون دیکھتا رہا، کسی واٹس ایپ گروپ میں ایک معمولی سی بحث چل رہی تھی، میں اس میں الجھا رہا۔ بھتیجا چلا گیا تو احساس ہوا کہ پورا گھنٹہ بچے کے پاس بیٹھ کر بھی میں اس کے پاس نہیں تھا۔ یہ ایک معمولی مگر ٹھیٹھ مثال ہے، خاکوانی صاحب، اس کی، جس کا میں ذکر کر رہا ہوں۔
ان کے جانے کے بعد سوچتا رہا کہ صرف وہی نہیں بلکہ ہم سب اسی غربت کے شکار ہیں۔ ہمیں احساس بھی نہیں۔ پاکستان میں روزی روٹی کی غربت کا چرچا ہے، مہنگائی کا رونا ہے، نوکریوں کی کمی پر کالمز اور ٹاک شوز جاری ہیں، مگر اصل بحران اس سب سے زیادہ گہرا اور خاموش ہے۔ امریکی کمپنی ایسوریون کی سنہ 2022 کی ایک سٹڈی کے مطابق ایک عام امریکی صارف اپنے اسمارٹ فون کو روزانہ 144 بار چیک کرتا ہے یعنی ہر 6 منٹ میں ایک بار۔
دوسری طرف سنہ 2015 میں سامنے آنے والی ایک مشہور تحقیق میں انکشاف ہوا کہ آج کے انسان کی توجہ کا اوسط دورانیہ صرف 8 سکینڈ رہ گیا ہے جبکہ سال دوہزار میں یہی دورانیہ 12 سکینڈ تھا۔ یاد رہے کہ اس تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ گولڈ فش کی توجہ کا دورانیہ نو سکینڈ ہوتا ہے۔ یعنی ہم انسانوں نے اس پہلو میں مچھلی سے بھی ہار مان لی ہے۔ویسے تو اب 10،11 سال مزید ہوگئے ہیں، ممکن ہے توجہ کا یہ دورانیہ مزید ایک 2 سکینڈز کم ہوگیا ہو۔
پچھلے دنوں ایک پرانے استاد سے ملاقات ہوئی۔ وہ 30 برس سے کالج میں نفسیات پڑھا رہے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنے لگے کہ آج کا طالب علم پانچ منٹ بھی ایک کتاب کے صفحے پر ٹک کر نہیں رہ سکتا۔ یہ بات انہوں نے کوئی شکوہ کے انداز میں نہیں کہی، تجربے کی روشنی میں ایک تشخیص بتائی۔ ان کی شکایت کی نوعیت ذرا اور تھی۔ بولے، طالب علم تو خیر چھوٹے ہیں، عمر کا تقاضا بھی ہے، مگر ہم اساتذہ کا بھی یہی حال ہوگیا ہے۔ پہلے میں ہر روز رات کو 3،4 گھنٹے مطالعہ کرتا تھا، اب چند صفحات بھی نہیں پڑھ پاتا۔ ابتدا میں آنکھوں پر شک کیا، ڈاکٹر کے پاس گیا، عینک تبدیل کر لی۔ مگر دراصل آنکھوں کا مسئلہ نہیں تھا، ذہن کا تھا۔ کتاب کھولتا، 4 سطریں پڑھتا، پھر بے اختیار فون اٹھا لیتا۔ کوئی نوٹیفکیشن نہ بھی ہو، تب بھی ہاتھ خود فون کی طرف چلا جاتا، گویا کوئی نشہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: انڈین بنگال میں ممتا بنرجی کو کیسے ہرایا گیا؟
یہ نشہ اتفاقی نہیں۔ توجہ یعنی اٹینشن کی کمی پر میں نے نیٹ پر سرچ کی تو پتا چلا کہ کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر ٹم وو نے 10 سال قبل ایک کتاب لکھی تھی، اٹینشن مرچنٹس، یعنی توجہ کے سوداگر۔ ٹم وو نے اپنی کتاب میں ثابت کیا کہ گزشتہ 150 برس کے کاروبار کی پوری تاریخ ایک ہی موضوع کے ارد گرد گھومتی ہے، انسان کی توجہ کس طرح خریدی جا سکتی ہے۔ پہلے اخبارات نے کیا، پھر ریڈیو نے، پھر ٹیلی ویژن نے۔ آخر میں اسمارٹ فون آیا اور وہ سب کچھ مل کر بھی نہیں کر سکا، جو اس چھوٹی سی ڈیوائس نے کر دکھایا۔ ٹم وو کا کہنا ہے کہ گوگل، فیس بک، ٹک ٹاک، ایکس، انسٹا گرام، ان کمپنیوں کی اربوں ڈالر کی آمدن کا واحد ذریعہ ہماری توجہ ہے، اور وہ مل بیٹھ کر سائنسدانوں اور ماہرین نفسیات کی فوج کے ساتھ یہ طے کر چکے ہیں کہ اس توجہ کو کیسے قید کرنا ہے۔
میری نیٹ سرچ میں ایک اور دلچسپ کتاب بھی سامنے آئی۔ اس کتاب کو ابھی کسی طریقے سے ڈاؤن لوڈ نہیں کر پایا ،ویسے تو کئی جگاڑو طریقے یہ خاکسار اپنے بعض مہربان دوستوں کی مدد سے دریافت کر چکا ہے جن میں پیارے نوجوان علم دوست توصیف نیازی سرفہرست ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ بعض کتابیں جلد نہیں ملتیں۔ خیر اس کی سمری تو نکلوا ہی لی۔ ایک برطانوی صحافی جوہان ہاری کی کتاب ہے، اسٹولن فوکس یعنی چوری شدہ توجہ۔
جوہان ہاری خاصے محنتی صحافی ہیں، بھائی صاحب نے 3 سال لگا کر دنیا بھر کے 100 سے زائد ماہرین نفسیات ، سوشیالوجسٹ، نیورو سائنٹسٹوں سے ملاقاتیں کیں۔ ان کا نچوڑ یہ تھا کہ آج کی نسل کے ذہنی ارتکاز میں کمی کوئی ذاتی نقص نہیں، یہ ایک منظم انڈسٹری کی چالاکیوں کا نتیجہ ہے۔ ہاری کی تحقیق ہلا دینے والی ہے کہ یہ صورتحال ہمارے بچوں پر سب سے زیادہ اثر انداز ہو رہی ہے۔ یاد رہے کہ ہمارے ہاں اب 3 سالہ بچے کے ہاتھ میں موبائل فون پکڑا دیا جاتا ہے تاکہ وہ خاموش رہے۔ ابتدائی برسوں میں توجہ کا یہ نقصان دماغ میں ایک مستقل رنگ ڈال دیتا ہے۔ ہاری کا کہنا ہے کہ یہ کسی ایک نسل کے بارے میں نہیں، انسانی شعور کے بارے میں ہے۔
ہمارے ہاں احمد جاوید صاحب نے کئی سال پہلے ایک مجلس میں اس مسئلے پر دلچسپ بات کہی تھی۔ احمد جاوید صاحب اقبالیات کے بڑے اسکالر ہیں، ان کی گفتگو میں ایک خاص قسم کی پختگی ہے جو بہت کم لوگوں کو میسر ہے۔ کہنے لگے، علامہ اقبال کی شاعری اس ذہن سے نکلی جو گھنٹوں ایک ہی موضوع پر فوکس رہ سکتا تھا۔ آج کوئی نوجوان اقبال کا ایک طویل شعر بھی پڑھ نہیں پاتا، سمجھنا تو دور کی بات۔ احمد جاوید صاحب کا کہنا تھا کہ علامہ اقبال نے بال جبریل کی نظمیں 10،10 بار لکھیں، ہر بار ایک ایک لفظ بدلا اور یہ سب کام صبح کی نماز کے بعد کے دو گھنٹوں میں ہوتا تھا۔ یہ توجہ ہی کا کرشمہ تھا۔ آج کا ’اقبال‘ جیتا ہے، تو فیس بک پر اسکرول کرتے ہوئے جیتا ہے، اور اس کا ذہن کبھی نظم لکھ پانے کے قابل نہیں رہتا۔
ہمارے ہاں اب سچ بات یہ ہے کہ کسی پر بھی نوازش کرنی ہو تو اپنی توجہ دے دیں۔ پیسے، تحفے، باتیں، یہ سب ثانوی چیزیں ہیں۔ بچے کو سب سے زیادہ کیا چاہیے؟ مہنگے کھلونے یا ماں باپ کی تھوڑی سی توجہ جو ان کے فون سے ہٹ کر اس کی جانب ہو؟ بیوی شوہر سے کیا چاہتی ہے؟ بڑا گھر، نئی گاڑی، یا یہ کہ شام کے کھانے کی میز پر شوہر فون نیچے رکھ کر اس کی بات سنے؟ بزرگ والدین اپنے بچوں سے کیا چاہتے ہیں؟ وہ پہلے ہی جان چکے ہیں کہ ان کی اولاد مصروف ہے، مگر ہفتے میں ایک ٹیلی فون کال جو 5 منٹ نہیں، پندرہ منٹ کی ہو، اور اس میں سامنے والا 6 گروپس کے درمیان نہ بٹا ہو۔ یہ کبھی ہم نے سوچا کہ یہ ان کی سب سے بڑی خواہش ہے؟ توجہ ایک کرنسی بن گئی ہے، ایسی کرنسی جو پاکستان میں بھی اور پوری دنیا میں بھی روز دن دگنی رات چوگنی مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کاروبار اور قیادت کی دنیا کے ماہرین اب اسے واضح طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔ امریکی محقق کیل نیوپورٹ کی ایک کتاب مجھے پسند ہے، 2 سال پہلے اسے ڈاون لوڈ کر کے پڑھنے کی کوشش کی اور کسی حد تک عمل بھی کیا۔ ’ڈیپ ورک‘ نامی اس کتاب میں کئی چیزیں ایسی ہیں جو گیم چینجر بن سکتی ہیں۔ کیل نیوپورٹ کا کہنا ہے کہ آنے والے سالوں میں صرف وہی لوگ بڑی کامیابیاں سمیٹیں گے جو 2،3 گھنٹے تک ایک ہی کام پر بلا تعطل توجہ مرکوز کر سکیں گے۔ باقی سب لوگ، خواہ وہ کتنے ہی محنتی ہوں، اوسط درجے سے اوپر نہیں جا سکیں گے۔
مزید پڑھیے: صحافت بمقابلہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس: کون جیتے گا؟
یہی بات ہمارے ہاں بھی صادق آتی ہے۔ کئی نوجوان مجھ سے ملنے آتے ہیں، شکوہ کرتے ہیں کہ محنت بہت کرتے ہیں مگر کام نہیں بن رہا۔ ان کی روداد سن کر میں دیکھتا ہوں کہ ان کی محنت میں سچائی ہے، توانائی بھی ہے، نیت بھی، مگر تسلسل اور فوکس نہیں۔ وہ ایک گھنٹے میں 7 کام شروع کرتے ہیں، ساتوں کسی منزل تک نہیں پہنچتے۔ ٹوئٹر دیکھتے ہوئے رپورٹ لکھنا، فلم دیکھتے ہوئے کتاب پڑھنا، فیملی کے ساتھ بیٹھ کر آفس کے میسج کا جواب دینا ، یہ سب ایک ساتھ کر رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ پروڈکٹیویٹی بڑھ رہی ہے۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
یہاں ایک اہم مزے کی بات ضرور بتانا چاہوں گا، موضوع سے مطابقت رکھتی ہے اور ایک بالکل ہی مختلف زاویہ نظر بھی سامنے لاتی ہے۔ پچھلے ہفتے ایک دوست نے بتایا کہ ان کے گھر کراچی کے ایک محترم ادیب تشریف لائے۔ اسی بیاسی برس عمر ،علم وفضل کے پہاڑ، طبیعت میں نہایت لطافت۔ 3 گھنٹے بیٹھے رہے، گفتگو کا ایک پرلطف سلسلہ چلتا رہا، چائے کے دو دور ہوئے، پھر کھانا بھی ہوا۔ سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ ان تین گھنٹوں میں ادیب صاحب نے ایک بار بھی اپنی جیب سے فون نہیں نکالا۔ نہ کسی پیغام کا ذکر، نہ کسی کال کا، نہ کسی تصویر کا۔ 3 گھنٹے سامنے بیٹھے شخص کے ساتھ، خالص اسی کے ساتھ۔ میرے دوست کہنے لگے، یہ تجربہ مجھے یاد نہیں آج سے کب پہلے ہوا تھا۔ میں خود حیران ہوں کہ 3 گھنٹے ایسے بھی گزر سکتے ہیں۔ دوست کی بات سن کر میں نے بھی سوچا، واقعی ایسا تو میرے ساتھ بھی خاصے عرصے سے نہیں ہوا۔
بہرحال، توجہ کی یہ غربت اب وبا کا روپ دھار چکی ہے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ اس کا علاج کسی نسخے یا گولی میں نہیں۔ سادہ سا حل ہے، گو مشکل ہے۔ دن میں چند گھنٹے فون بند کر دیں، یا کم از کم پاس نہ رکھیں۔ گھر آئیں تو فون کسی الماری میں رکھ دیں، شام بچوں اور بیوی کے ساتھ یعنی صرف ان کے ساتھ گزاریں۔ نماز پڑھنے بیٹھیں تو فون کو سائلنٹ نہیں، آف کر دیں۔ کتاب اٹھائیں تو 60 منٹ مسلسل پڑھنے کی کوشش کریں۔ ابتدا میں مشکل لگے گی، البتہ چند ہفتوں میں آدمی ایک بھولا ہوا لطف دوبارہ پانے لگتا ہے، یعنی اپنے دماغ پر اپنا اختیار۔
مزید پڑھیں: ایران، امریکا مذاکرات: اعصاب کی جنگ کون جیتے گا؟
کئی بار خیال آتا ہے کہ وہ پرانا محاورہ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ غریب وہ نہیں جس کے پاس مال نہیں، غریب وہ ہے جو اپنے اوپر مالک نہیں۔ ہمارے زمانے کا بدترین غریب وہ ہے جو اپنی توجہ کا خود مالک نہیں رہا۔ آپ بھی سوچیے گا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













