امریکا کے شہر پورٹ لینڈ میں ہونے والی ایک کانفرنس میں پاکستانی آبی حیات کے ماہر ڈاکٹر محمد نعیم خان نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریائے سندھ کے پانی سے متعلق معاہدے کی معطلی پاکستان کے دریائی نظام اور ماحولیات پر سنگین اثرات ڈال سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ: 100 دن گزر گئے، بھارت اقوام متحدہ کے سوالات کا جواب نہ دے سکا
میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا نظام پاکستان سمیت چین، بھارت اور افغانستان کے وسیع علاقوں میں پھیلا ہوا ہے اور یہ آبی حیات، جنگلات اور قدرتی ماحولیاتی نظام کے لیے نہایت اہم ہے۔
ڈاکٹر محمد نعیم خان کے مطابق معاہدے کی معطلی کے بعد معلومات کے تبادلے اور پانی کے منصوبوں سے متعلق پیشگی اطلاع کا نظام متاثر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں دریاؤں خصوصاً چناب کے بہاؤ میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 2025 میں بالائی علاقوں سے پانی کے اخراج میں کمی کے باعث نیچے کے علاقوں میں غیر معمولی طور پر پانی کی کمی پیدا ہوئی، جس سے ماحولیاتی نظام اور آبی حیات کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیں:بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے بڑھتے خطرات
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال پاکستان کے ڈیلٹا، دلدلی علاقوں اور مچھلیوں کی نسلوں پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔














