بھارت کی جانب سے آبی معاہدہ معطلی پر ماہرین کا ماحولیاتی انتباہ

ہفتہ 9 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کے شہر پورٹ لینڈ میں ہونے والی ایک کانفرنس میں پاکستانی آبی حیات کے ماہر ڈاکٹر محمد نعیم خان نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریائے سندھ کے پانی سے متعلق معاہدے کی معطلی پاکستان کے دریائی نظام اور ماحولیات پر سنگین اثرات ڈال سکتی ہے۔

مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ: 100 دن گزر گئے، بھارت اقوام متحدہ کے سوالات کا جواب نہ دے سکا

میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا نظام پاکستان سمیت چین، بھارت اور افغانستان کے وسیع علاقوں میں پھیلا ہوا ہے اور یہ آبی حیات، جنگلات اور قدرتی ماحولیاتی نظام کے لیے نہایت اہم ہے۔

ڈاکٹر محمد نعیم خان کے مطابق معاہدے کی معطلی کے بعد معلومات کے تبادلے اور پانی کے منصوبوں سے متعلق پیشگی اطلاع کا نظام متاثر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں دریاؤں خصوصاً چناب کے بہاؤ میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 2025 میں بالائی علاقوں سے پانی کے اخراج میں کمی کے باعث نیچے کے علاقوں میں غیر معمولی طور پر پانی کی کمی پیدا ہوئی، جس سے ماحولیاتی نظام اور آبی حیات کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیں:بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے بڑھتے خطرات

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال پاکستان کے ڈیلٹا، دلدلی علاقوں اور مچھلیوں کی نسلوں پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp