یونیورسٹیوں میں اے آئی کا بڑھتا استعمال، اساتذہ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

ہفتہ 9 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر کی جامعات میں مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے بڑھتے استعمال نے اساتذہ اور ماہرینِ تعلیم کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ کئی پروفیسرز کا کہنا ہے کہ ’چیٹ جی پی ٹی‘ جیسے اے آئی ٹولز طلبہ کی سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہے ہیں، اور اگر یہی رجحان جاری رہا تو مستقبل میں ایک ایسی افرادی قوت سامنے آسکتی ہے جو ڈگری یافتہ تو ہوگی مگر حقیقی علمی و تحریری مہارتوں سے محروم ہوگی۔

کینیڈا کی ’ولفریڈ لاریئر یونیورسٹی‘ کی ایک طالبہ ’سارہ‘ نے اعتراف کیا کہ اس نے پہلی بار ہائی اسکول کے آخری سال میں ’چیٹ جی پی ٹی‘ کو نقل کے لیے استعمال کیا۔ بعد ازاں وہ کالج میں تقریباً ہر مضمون کے اسائنمنٹس اور مضامین اے آئی سے تیار کروانے لگی۔ سارہ کے مطابق ’میرے گریڈز حیرت انگیز ہوگئے، اس نے میری زندگی بدل دی‘۔

طالبہ نے یہ بھی بتایا کہ وہ ٹک ٹاک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ اور ریڈٹ جیسی سوشل میڈیا ایپس کی طرح ’چیٹ جی پی ٹی‘ کی بھی عادی ہوتی جا رہی تھی۔ اس کے بقول ’جو مضمون پہلے 12 گھنٹے میں لکھتی تھی، اب 2 گھنٹوں میں تیار ہوجاتا ہے‘۔

دوسری جانب ایک استاد ’ولیمز‘ نے انکشاف کیا کہ ان کے اندازے کے مطابق کم از کم نصف طلبہ اے آئی کی مدد سے اپنے پیپر لکھ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کے استعمال کو ثابت کرنا تقریباً ناممکن بنتا جا رہا ہے جبکہ کئی تعلیمی ادارے اس مسئلے کی سنگینی کو ابھی تک پوری طرح سمجھ نہیں پا رہے۔

یہ بھی پڑھیں:چیٹ جی پی ٹی کی تیز رفتار ترقی کے پیچھے مالی خطرات؟ سرمایہ کاروں میں تشویش

ولیمز کے مطابق ہم طلبہ کی علمی صلاحیت نہیں بلکہ ’چیٹ جی پی ٹی‘ استعمال کرنے کی مہارت کو نمبر دے رہے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی بلاشبہ تعلیم میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے مگر اس کے بے قابو استعمال سے تنقیدی سوچ، تحقیق اور تخلیقی صلاحیتیں متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ اسی لیے اب دنیا بھر میں تعلیمی نظام، امتحانات اور طلبہ کی جانچ کے طریقۂ کار پر نئے سرے سے غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp