ہایئر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ایس سی) نے ملک میں اعلیٰ تعلیم کے نظام کو عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانے کے لیے ڈوئل، ڈبل اور جوائنٹ ڈگری پروگرامز سے متعلق نئی پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد پاکستانی جامعات اور مقامی و غیرملکی تعلیمی اداروں کے درمیان باقاعدہ تعلیمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
ایچ ای سی کے مطابق نئی پالیسی بڑھتی ہوئی عالمی تعلیمی روابط، طلبہ کی بین الاقوامی نقل و حرکت اور غیرملکی جامعات کے ساتھ شراکت داری کے تناظر میں متعارف کرائی گئی ہے۔ اس کے تحت جامعات کو انڈرگریجویٹ اور گریجویٹ سطح پر مشترکہ ڈگری پروگرامز شروع کرنے کے لیے واضح ضابطہ کار فراہم کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اعلیٰ تعلیم کے مستقبل میں مصنوعی ذہانت کلیدی کردار ادا کرے گی، چیئرمین ایچ ای سی
پالیسی میں 3 مختلف اقسام کے تعلیمی پروگرامز شامل کیے گئے ہیں۔ ڈوئل ڈگری پروگرام کے تحت طلبا کو 2 مختلف یا قریبی شعبوں میں الگ الگ ڈگریاں ملیں گی، جبکہ ڈبل ڈگری پروگرام میں ایک ہی مضمون میں شراکت دار جامعات کی جانب سے 2 ڈگریاں جاری کی جائیں گی۔ اسی طرح جوائنٹ ڈگری پروگرام میں شریک جامعات مشترکہ طور پر ایک ڈگری جاری کریں گی۔
ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ ایسے پروگرامز صرف باضابطہ معاہدوں کے تحت ہی شروع کیے جاسکیں گے۔ جامعات کو قانونی منظوری، مفاہمتی یادداشت، کریڈٹ میپنگ، داخلہ اور اخراج کے قواعد، فیسوں کی تفصیلات اور طلبہ کے تحفظ کے اقدامات یقینی بنانا ہوں گے۔ پروگرام شروع کرنے سے قبل ایچ ای سی سے این او سی لینا بھی لازمی ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: ایچ ای سی نے مصنوعی ذہانت کو اعلیٰ تعلیمی نصاب کا لازمی حصہ بنا دیا، گائیڈ لائنز جاری
کمیشن کے مطابق اس پالیسی سے طلبا کو عالمی تعلیمی مواقع، کریڈٹ ٹرانسفر، مشترکہ تحقیق اور بہتر روزگار کے امکانات میسر آئیں گے، جبکہ پاکستانی جامعات کی بین الاقوامی ساکھ بھی مضبوط ہوگی۔














