امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے مبینہ ‘یو ایف او فائلز’ جاری کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا اور سائنسی حلقوں میں شدید تنقید سامنے آئی ہے، جہاں ناقدین نے ان دستاویزات کو سنسنی خیزی، غیر واضح معلومات اور عوامی توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
امریکی حکومت نے 160 سے زائد فائلز جاری کیں جن میں 400 سے زیادہ نامعلوم فضائی مظاہر یا ‘یو اے پیز’ کا ذکر موجود ہے۔ ان میں چاند مشنز، فوجی ویڈیوز اور مختلف شہریوں کی رپورٹس شامل ہیں، تاہم کسی بھی دستاویز میں خلائی مخلوق یا غیرزمینی حیات کے ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے: جارج ڈبلیو بش اور خلائی مخلوق کا قصہ، نئے انکشافات سامنے آگئے
ماہرین کے مطابق بیشتر ویڈیوز دھندلی، غیر واضح اور تشریح سے خالی ہیں، جبکہ کئی واقعات پہلے ہی سائنسی یا عسکری بنیادوں پر وضاحت پا چکے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے عوامی تجسس کو بڑھانے کے لیے ایسی فائلز جاری کیں جن میں سنسنی تو ہے مگر ثبوت نہیں۔
سوشل میڈیا صارفین نے بھی اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کئی افراد نے کہا کہ امریکی حکومت اہم عالمی مسائل، معاشی دباؤ اور سیاسی تنازعات سے توجہ ہٹانے کے لیے ‘یو ایف او’ موضوع کو استعمال کررہی ہے۔ بعض مبصرین نے اسے جیفری ایپسٹین فائلز کی طرز کا ایک اور ‘ادھورا انکشاف’ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے: کیا ہم اگلی دہائی میں خلائی مخلوق کا سراغ پا لیں گے؟
دستاویزات میں شامل کئی رپورٹس میں معلومات کو بلیک آؤٹ کیا گیا ہے، جبکہ متعدد مقامات اور گواہوں کی شناخت چھپائی گئی ہے، جس کے باعث ان فائلز کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام کو شفافیت کی جانب قدم قرار دیا، مگر سائنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر مصدقہ اور مبہم مواد عوام میں مزید سازشی نظریات کو جنم دے سکتا ہے۔














