چینی کمپنی بائیٹ ڈانس کا اے آئی میں سرمایہ کاری میں 25 فیصد اضافے کا اعلان

ہفتہ 9 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چینی ٹیکنالوجی کمپنی بائیٹ ڈانس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں اپنی سرمایہ کاری میں بڑا اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت 2026 میں کمپنی کا خرچ 25 فیصد بڑھ کر 200 ارب یوآن (تقریباً 29.4 ارب ڈالر) تک پہنچنے کا امکان ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ اضافہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اے آئی مقابلے بازی اور میموری چپس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کیا جا رہا ہے۔ کمپنی نے گزشتہ سال 160 ارب یوآن کا ہدف مقرر کیا تھا، جس میں اب نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: یونیورسٹیوں میں اے آئی کا بڑھتا استعمال، اساتذہ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

رپورٹس کے مطابق بائیٹ ڈانس اپنی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ مقامی طور پر تیار ہونے والے اے آئی چپس پر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مقابلے میں اپنی پوزیشن مضبوط بنا سکے۔

چین کی حکومت بھی مقامی ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے اور غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد عالمی اے آئی دوڑ میں چین کو مضبوط بنانا ہے۔

کمپنی نے ایشیا اور یورپ میں بھی اپنی موجودگی بڑھانا شروع کر دی ہے۔ تھائی لینڈ میں ڈیٹا انفراسٹرکچر کے لیے 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی منظوری حاصل کی گئی ہے، جبکہ فن لینڈ میں ایک ارب یورو مالیت کے ڈیٹا سینٹر منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اینویڈیا کے جدید ترین چپس امریکا سے چین اسمگل کیسے ہوئے؟ پہلی بار تفصیلات سامنے آگئیں

رپورٹ کے مطابق اس کے باوجود بائیٹ ڈانس کی سرمایہ کاری امریکی بڑی کمپنیوں کے مقابلے میں اب بھی کم ہے، جہاں ایمیزون، گوگل، مائیکروسافٹ اور میٹا پلیٹ فارمز پہلے ہی زیادہ بڑے پیمانے پر اے آئی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp