وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور مشکل جغرافیائی صورتحال کے باوجود پاکستان کی معیشت میں استحکام برقرار ہے، جبکہ بیرونی شعبے اور توانائی کے نظام میں بھی مثبت پیشرفت دیکھی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران علاقائی تنازع کے باوجود پاکستان کی معاشی کارکردگی بہتر رہی اور حکومت کی اقتصادی پالیسی مضبوط معاشی اشاریوں پر مبنی ہے۔
میرے ساتھ وزیرِ پیٹرولیم موجود ہیں۔ میں اُن کو اور اُن کی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، کیونکہ جس طرح انہوں نے دو مہینے محنت کی کہ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قلت نہ ہو ، وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب pic.twitter.com/4jLh5V1Q9w
— WE News (@WENewsPk) May 9, 2026
انہوں نے بتایا کہ اپریل میں بڑے پیمانے کی صنعتوں میں سالانہ بنیاد پر 11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران مجموعی شرح نمو 6.5 فیصد رہی۔ ان کے مطابق رواں مالی سال میں ملکی جی ڈی پی گروتھ تقریباً 4 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، جو گزشتہ سال 3.1 فیصد تھی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ برآمدات میں ماہانہ بنیاد پر 9 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 14 فیصد اضافہ ہوا، جس میں ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل، آئی ٹی اور دیگر شعبوں نے اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ترسیلات زر مستحکم رہیں اور اپریل میں 3.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ مارچ میں یہ حجم 3.8 ارب ڈالر تھا۔
انہوں نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں بیرون ملک پاکستانیوں کے بڑھتے اعتماد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مارچ میں اس مد میں 260 ملین ڈالر اور اپریل میں ریکارڈ 320 ملین ڈالر موصول ہوئے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے 4 سال بعد دوبارہ عالمی سرمایہ مارکیٹ تک رسائی حاصل کرتے ہوئے 750 ملین ڈالر کے یورو بانڈز جاری کیے، جبکہ اب چین کی سرمایہ مارکیٹ میں پانڈا بانڈ کے اجرا کی تیاری بھی جاری ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ جون کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے، جو تقریباً 3 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہوں گے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی پالیسی کا مقصد صنعتی ترقی، لیٹر آف کریڈٹ کے اجرا، منافع کی منتقلی اور روزگار کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے وزارتِ پٹرولیم اور علی پرویز ملک کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ غیر معمولی علاقائی صورتحال کے باوجود ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بلا تعطل جاری رہی۔
ان کے مطابق نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل اور دیگر اداروں نے بین الاقوامی شراکت داروں اور سفارتخانوں کے تعاون سے سپلائی چین کو مستحکم رکھا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ خطے کے کئی ممالک کے برعکس پاکستان میں نہ ایندھن کی قلت پیدا ہوئی اور نہ ہی سپلائی میں رکاوٹ آئی، جس کا کریڈٹ حکومتی اداروں کی بروقت منصوبہ بندی کو جاتا ہے۔
ایندھن کی قیمتوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے باوجود حکومت نے موٹرسائیکل سواروں، پبلک ٹرانسپورٹ اور چھوٹے کسانوں کے لیے ہدفی سبسڈی جاری رکھی ہے، جسے وزیراعظم کی ہدایت پر تیسرے ماہ تک توسیع دی گئی۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ایندھن کے استعمال میں احتیاط برتیں کیونکہ مارچ اور اپریل کے درمیان تیل کی درآمدی لاگت میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
وزیر خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے تمام بین الاقوامی مالیاتی وعدوں کی بروقت تکمیل جاری رکھے گا اور دوطرفہ و کثیرالجہتی شراکت داروں کے اعتماد کو برقرار رکھا جائے گا۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور دیگر اداروں کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن اور معاشی استحکام کے لیے مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باوجود عوام کو اس کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سمیت اہم عالمی بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باوجود پاکستان نے پیٹرولیم سپلائی کو مستحکم رکھا۔
انہوں نے اس مشکل وقت میں سعودی عرب اور کویت سمیت دوست ممالک کے تعاون کو سراہا۔
دونوں وفاقی وزرا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت معاشی استحکام، توانائی کے تحفظ اور عوامی ریلیف کے لیے اقدامات جاری رکھے گی، جبکہ خطے میں جلد امن کے قیام کی امید بھی ظاہر کی۔














