’پاکستانی مائیں 2026‘ کے موقع پر جاری اعداد و شمار میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک میں تقریباً 5 کروڑ مائیں قومی معاشرے، خاندان اور معیشت کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں، تاہم انہیں صحت اور فلاح سے متعلق کئی بڑے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شہزادی کیتھرین نے ’مدرز ڈے‘ پر جاری کی گئی تصویر پر معذرت کیوں کی؟
پلس کنسلٹنٹ کی جاری کردہ رپورٹ ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خواتین کی مجموعی آبادی تقریباً 11 کروڑ 71 لاکھ ہے، جو ملک کی کل آبادی کا قریب 48.5 فیصد بنتی ہے، جبکہ 15 سال یا اس سے زائد عمر کی خواتین کی تعداد 6 کروڑ 94 لاکھ سے زیادہ ہے۔
𝐌𝐨𝐭𝐡𝐞𝐫’𝐬 𝐃𝐚𝐲 𝟐𝟎𝟐𝟔 🇵🇰
According to Pakistan hashtag#Census_2023 and related national statistics:
◾ Pakistan’s female population stands at 𝟏𝟏𝟕.𝟏𝟓 𝐦𝐢𝐥𝐥𝐢𝐨𝐧 — nearly 𝟒𝟖.𝟓%of the country’s population pic.twitter.com/68BQcVrqIm
— Pulse Consultant (@PulseConsultant) May 9, 2026
میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ مردم شماری اور قومی سرویز سے مرتب کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں شادی شدہ خواتین کی تعداد تقریباً 5 کروڑ 19 لاکھ ہے جبکہ ماؤں کی مجموعی تعداد 5 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں شرحِ پیدائش اب بھی نسبتاً بلند ہے اور فی خاتون اوسطاً 3.6 بچوں کی شرح ریکارڈ کی گئی، تاہم شہری اور دیہی علاقوں میں واضح فرق موجود ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق شہروں کی جانب آبادی کی منتقلی میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے، جہاں بہتر روزگار اور سہولیات کی تلاش میں خاندان مسلسل نقل مکانی کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں خواتین کی صحت سے متعلق تشویشناک صورتحال بھی سامنے آئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حمل یا زچگی سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث روزانہ تقریباً 32 خواتین جان کی بازی ہار جاتی ہیں، جو طبی سہولیات کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔
اسی طرح خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات تک محدود رسائی بھی ایک بڑا مسئلہ قرار دی گئی، کیونکہ مانع حمل ذرائع استعمال کرنے کی شرح صرف 38 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں سالانہ ہزاروں مائیں اور لاکھوں بچے کیوں مر رہے ہیں؟
ماہرین کے مطابق پاکستانی ماؤں کی قربانیوں اور کردار کو حقیقی معنوں میں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے زچہ و بچہ کی صحت، خواتین کے حقوق اور فلاحی پالیسیوں پر مزید توجہ دینا ناگزیر ہے۔














