تھائی لینڈ کے سابق وزیراعظم اور ارب پتی سیاستدان تھاکسن شیناوترا کو پیرول پر جیل سے رہا کر دیا گیا، جہاں ان کے حامیوں نے بھرپور استقبال کیا۔
15 برس جلاوطنی گزارنے کے بعد وطن واپس آنے والے تھاکسن گزشتہ برس سزا کا سامنا کرنے کے لیے تھائی لینڈ پہنچے تھے، تاہم ان کی رہائی نے ایک بار پھر ملک کی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔
تھائی لینڈ کے سابق وزیراعظم تھاکسن شیناوترا کو پیرول پر جیل سے رہا کر دیا گیا۔ وہ آٹھ ماہ قبل عدالت کے حکم پر قید میں گئے تھے، جب سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ انہوں نے اسپتال میں طویل قیام کے ذریعے جیل کی سزا سے بچنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیے تھائی لینڈ کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم تھاکسن شناواترا کو ایک سال قید کی سزا سنادی
76 سالہ تھاکسن شیناوترا گزشتہ پچیس برسوں تک تھائی سیاست کے سب سے بااثر رہنماؤں میں شمار ہوتے رہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں ان کی سیاسی گرفت کمزور پڑتی گئی، خاص طور پر ان کی جماعت ’پھیو تھائی پارٹی‘ کی حالیہ انتخابات میں بدترین کارکردگی اور ان کی قید کے بعد۔
بینکاک کی کلونگ پریم جیل سے رہائی کے وقت تھاکسن سفید قمیص میں ملبوس اور مختصر بالوں کے ساتھ مسکراتے ہوئے باہر آئے۔ انہوں نے اپنی بیٹی اور سیاسی جانشین پیتونگتارن شیناوترا سمیت اہلِ خانہ کو گلے لگایا۔ پیتونگتارن کو گزشتہ برس اگست میں عدالت نے وزارتِ عظمیٰ سے ہٹا دیا تھا۔
جیل کے باہر موجود سیکڑوں کارکن، جو ان کی جماعت کے روایتی سرخ رنگ کے لباس میں ملبوس تھے، ’وی لو تھاکسن‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ صحافیوں کے سوال پر تھاکسن نے ہاتھ اٹھا کر کہا کہ وہ ’سکون محسوس کر رہے ہیں۔‘
تھاکسن 2023 میں 15 برس کی خودساختہ جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آئے تھے تاکہ اختیارات کے ناجائز استعمال اور مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق آٹھ سالہ سزا کا سامنا کر سکیں۔ تاہم جیل میں ایک رات گزارنے کے بجائے انہیں دل اور سینے کی تکلیف کی شکایت پر اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں شاہِ تھائی لینڈ نے ان کی سزا کم کر کے ایک سال کر دی تھی۔
سپریم کورٹ نے بعد میں قرار دیا کہ تھاکسن اور ان کے ڈاکٹروں نے معمولی اور غیر ضروری سرجریوں کے ذریعے اسپتال میں قیام طول دیا، جس کے بعد انہیں دوبارہ جیل بھیجا گیا۔
یہ بھی پڑھیے تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے وزیراعظم کو برطرف کردیا
تھاکسن کی رہائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ان کے سیاسی خاندان کو شدید دھچکوں کا سامنا ہے۔ ان کی بیٹی پیتونگتارن کی برطرفی اور اتحادی جماعتوں کے اختلافات کے بعد ’پھیو تھائی پارٹی‘ کمزور پوزیشن میں آ چکی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق تھاکسن کی رہائی ان کی جماعت کے لیے نئی زندگی ثابت ہو سکتی ہے، تاہم انہیں اب زیادہ محتاط انداز میں سیاست کرنا ہوگا۔
تھاکسن کو اپنی سزا مکمل ہونے تک ستمبر تک الیکٹرانک نگرانی والے آلے کے ساتھ رہنا ہوگا۔ ان کے ایک حامی نے جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تھاکسن نے ہمیشہ عوام کی بہتری کے لیے کام کیا اور انہیں کبھی جیل نہیں جانا چاہیے تھا۔














