پاکستان کی معیشت میں بچت و سرمایہ کاری کا بحران

پیر 11 مئی 2026
author image

راحیل نواز سواتی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا کی مضبوط معیشتیں صرف قدرتی وسائل، بڑی آبادی یا دولت کی فراوانی سے وجود میں نہیں آئیں، بلکہ ان کی اصل طاقت مالیاتی نظم، طویل المدتی منصوبہ بندی اور وسائل کے متوازن استعمال سے پیدا ہوئی۔

معاشی ترقی دراصل اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ حکومتیں، نجی شعبہ اور عوام اپنی آمدن اور بچت کو کس انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ممالک محدود وسائل کے باوجود مضبوط معیشتیں بن گئے، جبکہ بعض ممالک وسائل رکھنے کے باوجود معاشی ترقی نہیں حاصل  کر سکے۔

پاکستان کی معیشت کو بھی صرف وسائل کی کمی کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جو وسائل موجود ہیں ان کا استعمال کس حد تک طویل المدت معاشی طاقت میں تبدیل ہو رہا ہے۔

معاشی طاقت صرف اس بات سے پیدا نہیں ہوتی کہ کسی ملک کے پاس کتنی رقم ہے بلکہ اس سے پیدا ہوتی ہے کہ موجود وسائل کس حد تک نظم، توازن اور دوراندیشی کے ساتھ استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہی دراصل مالیاتی نظم و نسق یا فِسکل مینجمنٹ کا بنیادی تصور ہے۔

ترقی یافتہ ممالک نے اپنی قومی آمدن کا ایک مخصوص حصہ مسلسل بچت اور سرمایہ کاری کے لیے مختص رکھا۔ مشرقی ایشیا، سنگاپور، جنوبی کوریا، جاپان اور بعد ازاں چین نے فوری کھپت کے بجائے طویل المدتی سرمایہ کاری کو ترجیح دی۔

ان ممالک نے بچت کو صنعت، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، تحقیق اور انسانی وسائل کی ترقی میں استعمال کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ ان کی پیداواری صلاحیت بڑھی، برآمدات مضبوط ہوئیں اور معیشتیں مستحکم ہوتی چلی گئیں۔

پاکستان میں مسئلہ صرف حکومتوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک مجموعی قومی معاشی رویّے کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے 3 اہم پہلو نمایاں ہیں: حکومتی طرزِ عمل، نجی شعبے کا رویّہ اور عوامی معاشی ترجیحات۔

حکومتی سطح پر طویل المدت معاشی منصوبہ بندی کے بجائے اکثر قلیل المدت مالیاتی انتظام کو ترجیح دی گئی۔ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے بجائے فوری سیاسی اور مالیاتی دباؤ سے نمٹنے پر زیادہ توجہ رہی۔

قومی بچت، صنعتی اپ گریڈیشن، تحقیق، انسانی ترقی اور پیداواری شعبوں میں تسلسل کے ساتھ سرمایہ کاری کو مستقل قومی ترجیح نہیں بنایا جا سکا۔ نتیجتاً معیشت بار بار قرض، درآمدی دباؤ اور مالیاتی خساروں کے گرد گھومتی رہی۔

نجی شعبے کا طرزِ عمل بھی اس صورتحال سے مختلف نہیں رہا۔ پاکستان میں کاروباری طبقے کے ایک بڑے حصے نے منافع تو حاصل کیا، مگر اس منافع کو جدید مشینری، ٹیکنالوجی، تحقیق، توانائی بچانے والے نظام اور عملے کی تربیت میں نہیں لگایا، اس کے بجائے غیر پیداواری اثاثوں، محفوظ سرمایہ کاری اور فوری منافع کو ترجیح دی جاتی رہی۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صنعت کے کئی شعبے عالمی معیار کی مسابقت حاصل نہ کر سکے۔ آج بھی پاکستان کے متعدد صنعتی یونٹس زیادہ توانائی خرچ کر کے کم پیداوار دیتے ہیں، جس سے لاگت بڑھتی اور برآمدات کمزور ہوتی ہیں۔ یوں توانائی کا بحران صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ صنعتی جدت میں کمزوری بھی بن چکا ہے۔

عوامی سطح پر بھی صورتحال مختلف نہیں۔ معاشی غیر یقینی، مہنگائی، پالیسیوں میں عدم تسلسل اور مالیاتی نظام پر محدود اعتماد کے باعث عوام کی بڑی تعداد اپنی بچت کو باضابطہ مالیاتی نظام کے بجائے سونا، پلاٹ، ڈالر، نقد رقم یا غیر رسمی کاروبار میں محفوظ سمجھتی ہے۔

اس رویّے کی اپنی وجوہات ضرور ہیں، مگر اس کے نتیجے میں قومی بچتیں صنعت، سرمایہ کاری اور پیداواری معیشت تک مکمل طور پر منتقل نہیں ہو پاتیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جب حکومت قلیل المدت مالیاتی حکمت عملی اپنائے، نجی شعبہ پیداواری جدیدکاری سے گریز کرے اور عوام مالیاتی نظام پر اعتماد نہ کریں تو معیشت بتدریج کھپت، درآمدات اور غیر دستاویزی سرمائے کے گرد گھومنے لگتی ہے۔ ایسی صورتحال میں معاشی ترقی کی رفتار محدود ہو جاتی ہے اور ملک مستقل مالیاتی دباؤ کا شکار رہتا ہے۔

پاکستان کے لیے اصل ضرورت صرف مزید قرض یا وقتی مالیاتی سہارا حاصل کرنا نہیں بلکہ قومی معاشی ترجیحات کو تبدیل کرنا ہے۔ ریاست کو قومی بچت، صنعتی جدت، ٹیکنالوجی، تحقیق، انسانی وسائل اور پیداواری سرمایہ کاری کو مستقل پالیسی کا حصہ بنانا ہو گا۔

نجی شعبے کو بھی فوری منافع کے بجائے طویل المدتی صنعتی استعداد بڑھانے کی طرف جانا ہو گا، جبکہ عوام کے اعتماد کے لیے ایک مستحکم، شفاف اور قابلِ اعتماد مالیاتی نظام ناگزیر ہے۔

دنیا کی کامیاب معیشتوں کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ پائیدار معاشی ترقی صرف زیادہ دولت سے نہیں بلکہ مالیاتی نظم، متوازن ترجیحات اور مسلسل پیداواری سرمایہ کاری سے حاصل ہوتی ہے۔

پاکستان اگر اپنے موجود وسائل کو بہتر حکمت عملی اور قومی نظم کے ساتھ استعمال کرے تو بتدریج ایک مضبوط، مستحکم اور پیداواری معیشت کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp