سابق وفاقی وزیر اور پاک چین انسٹیٹیوٹ کے سربراہ مشاہد حسین سید نے معرکہ حق کو پاکستان کی ایک تاریخی اور سفارتی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معرکے کے بعد جنوبی ایشیا کی سیاسی صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔
مشاہد حسین سید کے مطابق دنیا اب پاکستان کو ایک نئے زاویے سے دیکھ رہی ہے اور پاکستانی قوم نے ایک بڑے دشمن کا بھرپور مقابلہ کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، بھارت نے گزشتہ کئی دہائیوں میں جو عالمی تاثر قائم کیا تھا، وہ اس معرکے کے بعد متاثر ہوا جبکہ پاکستان کو عالمی سفارتی سطح پر ایک نیا مقام حاصل ہوا۔
سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے زیر اہتمام معرکہ حق، بازدار قوت، اشتعال انگیزی اور جنوبی ایشیا میں تزویراتی پختگی کے عنوان سے کتاب کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی، جس میں ممتاز دانشوروں، سفارتکاروں، عسکری ماہرین اور جامعات کے نمائندوں نے شرکت کی۔
تقریب آپریشن بنیان المرصوص کی پہلی سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی، جہاں جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال، بازدار قوت اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
مشاہد حسین سید نے کتاب کے حوالے سے کہا کہ یہ ایک اہم اور تاریخی دستاویز ہے جس میں معرکہ حق کے تمام پہلوؤں کو حقائق اور شواہد کی بنیاد پر بیان کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق کتاب میں ماہرین نے جنگ کے اسباب، نتائج، علاقائی اثرات اور دونوں ممالک کی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا ہے، جس سے یہ تصنیف مستقبل کے محققین اور پالیسی سازوں کے لیے ایک اہم حوالہ بن گئی ہے۔
مشاہد حسین سید نے کہا کہ ابھرتے ہوئے سلامتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فکری مباحث، علاقائی روابط اور دانشمندانہ حکمت عملی ناگزیر ہیں، تھنک ٹینکس اور جامعات جنوبی ایشیا میں استحکام اور پالیسی تحقیق کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تقریب میں رونمائی کی جانے والی کتاب میں معروف تزویراتی ماہرین، سفارتکاروں اور ریٹائرڈ فوجی افسران کے مضامین شامل ہیں، جن میں جنوبی ایشیا میں بازدار قوت، بحرانی کیفیت کے انتظام، علاقائی سلامتی اور بدلتے ہوئے تزویراتی نظریات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
منتظمین کے مطابق یہ تصنیف بھارتی جارحیت، بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں ایک بروقت علمی کاوش ہے۔
قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ظفر نواز جسپال نے کہا کہ معرکۂ حق پر لکھی جانے والی یہ ایک اہم کتاب ہے جس میں سابق ڈی جی ایس پی ڈی، سفارتکاروں اور ماہرین کی تحریریں شامل کی گئی ہیں۔
ان کے مطابق کتاب میں جنگ کے اسٹریٹیجک ماحول، بھارت کے عزائم، پاکستانی افواج کے ردعمل اور مستقبل کی ممکنہ صورتحال کا جامع تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق کے بعد پاکستان نے نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی سطح پر بھی مؤثر کردار ادا کیا اور دنیا میں ایک قابلِ قبول ریاست کے طور پر ابھرا۔
نمل یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر رضوانہ عباسی نے کہا کہ یہ کتاب ایک جامع علمی مجموعہ ہے جس میں 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی مختصر جنگ، اس کے اسباب، پاکستان کے ردعمل اور خطے میں جنگی حکمت عملی کے مختلف پہلوؤں کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کتاب میں تاریخی، تزویراتی اور تکنیکی نکات کو بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ مستقبل میں جنوبی ایشیا میں جنگی رجحانات اور پاکستان کی تیاریوں کے حوالے سے بھی اہم آراء دی گئی ہیں۔
ان کے مطابق یہ تصنیف نہ صرف علمی حلقوں بلکہ عام عوام میں بھی شعور اور آگاہی پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سی آئی ایس ایس کے سربراہ علی سرور نقوی نے کہا کہ بھارت کے جارحانہ رویے اور اشتعال انگیز تزویراتی اشاروں کے باعث جنوبی ایشیا کا ماحول غیر مستحکم ہوچکا ہے۔
انہوں نے علاقائی امن کے لیے ذمہ دارانہ ریاستی طرزِ عمل، مؤثر بازدار قوت اور مسلسل مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔
تقریب میں سفارتکاروں، محققین، طلبہ، سینئر سول و عسکری حکام اور غیر ملکی نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور جنوبی ایشیا کی سلامتی صورتحال، تزویراتی استحکام اور بازدار قوت کے مستقبل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔













