گزشتہ ماہ کے آخر میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے عمران خان کی رہائی مہم کو تیز کرنے اور کارکنوں کو فعال کرنے کی غرض سے رواں ماہ لاہور دورے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے یہ دورہ منسوخ کردیا۔
پی ٹی آئی کے مطابق سہیل آفریدی نے اپنے قریبی ساتھیوں اور ہم خیال پارٹی قیادت کے ساتھ مئی کے پہلے ہفتے لاہور جانا تھا، جہاں مینارِ پاکستان پر جلسے کا بھی پلان تھا، لیکن لاہور دورے کے اعلان کے چند دن بعد ہی یہ دورہ منسوخ کردیا گیا۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی کا دورہ لاہور، کیا پی ٹی آئی پنجاب سے ورکرز نکال پائے گی؟
واضح رہے کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد لاہور اور سندھ کا دورہ کر چکے ہیں۔ لاہور دورے کے دوران کوئی جلسہ نہیں کیا گیا تھا، البتہ کارکنوں سے ملاقاتیں اور اسٹریٹ ریلی نکالی گئی تھی۔
وزیراعلیٰ نے دورہ لاہور کیوں منسوخ کیا؟
29 اپریل کو وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور سے ایک بیان جاری ہوا، جس میں اچانک وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دورہ لاہور کو منسوخ کرنے کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سہیل آفریدی نے صوبے میں موجودہ مخدوش سیکیورٹی صورتحال اور اس حوالے سے بلائے گئے جرگے کے باعث یکم مئی کو لاہور کا دورہ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وزیراعلیٰ آئندہ لاہور جائیں گے یا نہیں، اور اگر جائیں گے تو اس کا نیا شیڈول کیا ہوگا۔
وزیراعلیٰ کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ سہیل آفریدی یکم مئی کو لاہور جا رہے تھے اور مینارِ پاکستان پر جلسے کا پلان بھی شامل تھا، لیکن قبائلی اضلاع میں مخدوش سیکیورٹی صورتحال پر جرگے کے باعث دورہ ملتوی کیا گیا، اور فیصلہ ہوا تھا کہ جلد نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا، تاہم ابھی تک کوئی نئی تاریخ سامنے نہیں آئی۔
کچھ باخبر ذرائع بتاتے ہیں کہ لاہور جلسہ منسوخ ہونے کی ایک بڑی وجہ اندرونی اختلافات ہیں، جو اس وقت شدت اختیار کر چکے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت پارٹی میں سہیل آفریدی کے خلاف بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں، اور کارکنان بھی ان کے خلاف بولنا شروع ہو گئے ہیں، جو کسی وقت علی امین گنڈاپور کے خلاف تھے۔
ذرائع کے مطابق پارٹی میں کئی گروپس موجود ہیں اور خیبرپختونخوا کے قائدین کا مؤقف ہے کہ دیگر صوبوں سے کارکنان نہیں نکل رہے اور احتجاج کے لیے صرف خیبرپختونخوا پر ہی انحصار کیا جا رہا ہے۔
کیا سہیل آفریدی دوبارہ لاہور جائیں گے؟
پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے مطابق سہیل آفریدی دوبارہ لاہور جائیں گے، تاہم اس وقت وہ حکومتی معاملات میں مصروف ہیں، لیکن وہ کب جائیں گے، اس بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔
پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کو سہیل آفریدی سے تحفظات ہیں کہ پنجاب میں قیادت سرگرم نہیں، جس کی وجہ سے کارکنوں کو باہر نکالنا آسان نہیں، جبکہ پنجاب کی قیادت ان کے دورے کے دوران تعاون کے لیے بھی تیار نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں مخالف حکومت ہونے کے باعث کارروائی کا خطرہ رہتا ہے، جس کی وجہ سے کوئی بھی سامنے آنے کو تیار نہیں۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے مزید کہاکہ سہیل آفریدی کو تجویز دی گئی تھی کہ اسلام آباد اور پشاور سے کارکنوں کو ریلی کی صورت میں ساتھ لے جانا چاہیے تاکہ ان پر تنقید نہ ہو۔
ان کے مطابق سہیل آفریدی لاہور میں جلسہ کرنے کے خواہاں ہیں، لیکن اس کے لیے پارٹی قیادت تیار نہیں۔ یکم مئی کے دورے کو ملتوی یا منسوخ کرنے کی ایک بڑی وجہ دورے کی تیاری مکمل نہ ہونا بھی تھا، جبکہ کارروائی کے خوف کی وجہ سے قیادت سامنے آنے کو تیار نہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ سہیل آفریدی دوبارہ کب لاہور جائیں گے تو وہ لاعلم نکلے، تاہم انہوں نے بتایا کہ اس کا اعلان سہیل آفریدی خود کریں گے۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا بغیر مشاورت دورہ کشمیر و لاہور، کیا اچکزئی مائنس ہو گئے؟
انہوں نے کہاکہ مردان جلسے میں سہیل آفریدی نے بغیر مشاورت کے آزاد کشمیر اور لاہور دوروں کا اعلان کیا تھا، جو بعد میں خود ہی مصروفیات کے باعث ملتوی کردیا گیا۔
سہیل آفریدی بھی لاہور دورے کے حوالے سے خاموش ہیں، اس حوالے سے مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔













